وفاقی تحقیقاتی ادارے نے منگل کی شب کراچی کے ایک پوش علاقے میں قائم نجی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر مالی فراڈ میں ملوث دو اہم پارٹنرز کو گرفتار کر لیا۔ یہ کال سینٹر مبینہ طور پر بیرونِ ملک مقیم شہریوں کو لوٹنے کے لیے ایک منظم نیٹ ورک کے طور پر کام کر رہا تھا۔
چھاپے کے دوران ایجنسی نے درجنوں ہائی اینڈ سرورز، انکرپٹڈ ہارڈویئر اور ہزاروں صارفین کا ڈیٹا قبضے میں لے لیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ مرکز محض ٹیلی مارکیٹنگ کا ادارہ نہیں تھا بلکہ یہاں سے برطانیہ اور امریکہ کے شہریوں کو "وِشنگ” (وائس فشنگ) کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا تھا۔
گرفتار ہونے والے دونوں افراد کے نام فی الحال ظاہر نہیں کیے گئے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان جدید سافٹ ویئر کا استعمال کرتے ہوئے اپنی لوکیشن چھپاتے تھے۔ وہ خود کو بینک یا ٹیکس حکام ظاہر کر کے غیر ملکی شہریوں کے بینکنگ کریڈینشلز حاصل کرتے تھے، جس کے بعد ان کے اکاؤنٹس سے رقوم منتقل کی جاتی تھیں۔
این سی سی آئی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ کوئی چھوٹی واردات نہیں تھی۔ "یہ ایک پیشہ ورانہ مجرمانہ نیٹ ورک تھا جس کے پاس باقاعدہ سکرپٹس اور عملے کی تربیت کے ماڈیولز موجود تھے۔ لوٹی گئی رقم کو مقامی رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں کھپایا جاتا رہا۔”
تفتیشی ٹیم نے تین ماہ قبل بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ملنے والی انٹیلی جنس کی بنیاد پر اس مرکز کی نگرانی شروع کی تھی۔ کال سینٹر ایک آئی ٹی کنسلٹنسی فرم کے نام پر کام کر رہا تھا، لیکن بین الاقوامی ٹریفک کے حجم اور جائز کاروباری معاہدوں کی عدم موجودگی نے مقامی سروس پرووائیڈرز کو شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیا تھا۔
کراچی کے آئی ٹی سیکٹر کے لیے یہ کارروائی ایک دھچکا ہے۔ صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ چند کالی بھیڑیں پاکستان کی ابھرتی ہوئی آئی ٹی برآمدات کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا ہے کہ یہ چھاپہ شہر بھر میں قائم غیر قانونی کال سینٹرز اور "گرے ٹریفک” کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔
حکام قبضے میں لیے گئے ڈیجیٹل ڈیٹا کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ متاثرین کی نشاندہی کی جا سکے اور فراڈ کے حجم کا تعین کیا جا سکے۔ گرفتار ملزمان کو بدھ کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں ایجنسی ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرے گی تاکہ ان کے آف شور اکاؤنٹس اور نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں تک پہنچا جا سکے۔
