کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں پیش آنے والے پرتشدد واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) کراچی نے باقاعدہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں مسلح افراد کو ایک شہری پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ واقعہ منگل کی رات پیش آیا۔ ویڈیو میں واضح ہے کہ چار سے زائد افراد، جن میں سے کچھ کے ہاتھوں میں اسلحہ تھا، ایک شہری کو سرِعام زد و کوب کر رہے ہیں۔ حملہ آور کارروائی کے بعد اپنی لگژری گاڑی میں فرار ہو گئے، جبکہ پولیس کے پہنچنے تک جائے وقوعہ پر کوئی موجود نہیں تھا۔
اے آئی جی کراچی نے ڈی آئی جی ساؤتھ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ویڈیو کی مدد سے ملزمان کی فوری شناخت کریں اور 24 گھنٹوں کے اندر رپورٹ پیش کریں۔ ترجمان کراچی پولیس کے مطابق، "قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے،” اور تفتیشی ٹیمیں گاڑی کے رجسٹریشن نمبر اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کا پیچھا کر رہی ہیں۔
ڈی ایچ اے کے رہائشیوں کے لیے یہ واقعہ اس بڑھتی ہوئی بے چینی کا تسلسل ہے جو نجی سیکیورٹی گارڈز اور بااثر افراد کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے پیدا ہوئی ہے۔ اگرچہ ڈی ایچ اے کو شہر کا محفوظ ترین علاقہ سمجھا جاتا ہے، تاہم حالیہ عرصے میں مسلح محافظوں کے ساتھ سڑکوں پر جھگڑوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس پولیس کی غیر جانبداری کا امتحان ہے۔ اگر ملزمان کا تعلق کسی بااثر سیاسی یا کاروباری شخصیت سے ثابت ہوا، تو تفتیش پر دباؤ پڑنا یقینی ہے۔
تفتیشی افسر نے میڈیا کو بتایا کہ "ہم اسے ہائی پروفائل کیس کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ فوٹیج کا فرانزک مکمل ہوتے ہی ملزمان کے نام اور کوائف عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔”
متاثرہ شہری کو معمولی چوٹیں آئیں، تاہم تاحال مقدمے کے اندراج کے لیے کوئی باقاعدہ درخواست نہیں دی گئی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگر متاثرہ شخص نے قانونی کارروائی نہ کی تو ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔
تحقیقات کا عمل شروع ہو چکا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا کراچی پولیس محض کارروائی دکھانے تک محدود رہے گی یا ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر عوامی تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ فی الحال تمام تر توجہ اس ویڈیو پر ہے جو سوشل میڈیا پر انصاف کا مطالبہ کر رہی ہے۔
