سوات موٹروے پر منگل کی صبح ایک مسافر بس اور ڈمپر کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 4 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 5 زخمی ہوئے۔ حادثہ موٹروے کے سروس ایریا کے قریب پیش آیا، جس کے بعد امدادی کارروائیوں کے لیے ٹریفک کو عارضی طور پر روک دیا گیا۔
ریسکیو حکام نے تصدیق کی ہے کہ لاشوں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے، جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
بس سوات کی جانب رواں دواں تھی کہ پیچھے سے ڈمپر سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ بس کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور کئی مسافر اندر ہی پھنس گئے۔ مقامی رضاکاروں اور فائر فائٹرز نے ہائیڈرولک کٹرز کی مدد سے مسافروں کو باہر نکالا۔
پولیس نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق تیز رفتاری حادثے کی بڑی وجہ معلوم ہوتی ہے، تاہم تفتیشی ٹیمیں اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا ڈمپر کی پوزیشن یا مکینیکل خرابی تو اس کا سبب نہیں بنی۔
سوات موٹروے پر حالیہ عرصے میں ٹریفک حادثات میں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ ہائی سپیڈ کوریڈور پر ڈرائیوروں کی غفلت ہے۔ یہ سڑک خطے کی اہم ترین شاہراہ ہے، مگر یہاں دیگر موٹرویز کے مقابلے میں رفتار کی نگرانی کا نظام کافی کمزور ہے۔
ڈمپر کا ڈرائیور حادثے کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس قریبی انٹرچینجز کے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزم کی تلاش کر رہی ہے۔
ہسپتال میں لواحقین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ انتظامیہ شناخت کا عمل مکمل کر رہی ہے۔ موٹروے کو ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے، مگر حکام نے مسافروں کو اس شاہراہ پر سفر کے دوران احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
