جماعت اسلامی نے آزاد جموں و کشمیر میں حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے درمیان جاری تعطل کو ختم کرنے کے لیے ایک "امن جرگہ” تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں کئی ہفتوں سے جاری احتجاج اور کشیدگی کے بعد سامنے آئی ہے جس نے معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
جماعت اسلامی کی قیادت نے بدھ کے روز اس اقدام کا اعلان کرتے ہوئے اسے فریقین کے درمیان ایک غیر جانبدار پل قرار دیا۔ مقصد واضح ہے: حکومتی بیوروکریسی اور سڑکوں پر موجود مظاہرین کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانا، تاکہ معاشی اور سیاسی بحران کو مزید گہرا ہونے سے روکا جا سکے۔
تنازع کا بنیادی مرکز جے اے اے سی کے مطالبات ہیں، جن میں بجلی کے نرخوں میں کمی اور گندم کے آٹے پر سبسڈی کی بحالی شامل ہے۔ مظاہرین حکومتی یقین دہانیوں کو مسترد کر چکے ہیں؛ ان کا موقف ہے کہ ماضی میں کیے گئے معاہدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب، آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ شدید مالی مشکلات کے باعث مرکزی حکومت کی مدد کے بغیر ان مطالبات کو پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔
جماعت اسلامی کے ترجمان نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "ہم خطے کو جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ حکومت طاقت کا استعمال کر رہی ہے اور مظاہرین کا صبر جواب دے رہا ہے۔ دونوں فریق ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں سے واپسی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔”
یہ ثالثی کی پہلی کوشش نہیں ہے۔ مقامی عمائدین کی جانب سے ماضی میں کی گئی غیر رسمی کوششیں کسی پائیدار معاہدے تک نہیں پہنچ سکیں۔ جماعت اسلامی کے جرگے کو امید ہے کہ وہ اس عمل کو باضابطہ بنا کر تاجر برادری اور ٹرانسپورٹ یونینز کے نمائندوں کو بھی مذاکرات کا حصہ بنا سکے گا۔
اس معاملے پر داؤ بہت کچھ لگا ہے۔ احتجاج کے باعث ٹرانسپورٹ نیٹ ورک بری طرح متاثر ہوا ہے اور لاکھوں شہریوں کی روزمرہ زندگی تعطل کا شکار ہے۔ ریاستی حکومت کے لیے اس بحران کا حل نہ نکالنا انتظامی رٹ ختم ہونے کے مترادف ہے، جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی پر دباؤ ہے کہ وہ طویل ہڑتالوں سے عوام کو مزید تنگ کیے بغیر ٹھوس مراعات حاصل کرے۔
توقع ہے کہ یہ جرگہ اگلے 48 گھنٹوں کے اندر حکومتی حکام سے ملاقات کر کے مذاکرات کا ایک نیا خاکہ پیش کرے گا۔ اصل رکاوٹ یہ ہے کہ آیا حکومت سبسڈی کے بوجھ کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہوگی، یا عوامی ایکشن کمیٹی اپنے مطالبات میں نرمی لانے پر آمادہ ہوگی۔
اگر یہ جرگہ ناکام ہوتا ہے تو خطے میں احتجاجی تحریک کے مزید پھیلنے کا خدشہ ہے۔ فی الحال سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا ایک تیسرا فریق ان مطالبات کو منوانے میں کامیاب ہو سکتا ہے جہاں براہ راست مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔
