کوہاٹ کی مقامی مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 21 تک پہنچ گئی ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زیر علاج مزید تین زخمی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، جس کے بعد ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔
دھماکے کے وقت مسجد میں نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ زوردار دھماکے سے مسجد کی چھت کا ایک حصہ زمین بوس ہو گیا، جس سے جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔ کے ڈی اے ٹیچنگ ہسپتال میں اب بھی 40 سے زائد افراد زیر علاج ہیں، جن میں سے کئی کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے کے لیے نمازیوں کے ہجوم کا فائدہ اٹھایا۔ ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیکیورٹی حصار موجود تھا، لیکن ہجوم کے دباؤ کے باعث چیکنگ کے عمل میں خلا پیدا ہوا، جس کا فائدہ حملہ آور نے اٹھایا۔
اس واقعے کے بعد پشاور سمیت صوبے بھر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ سول سوسائٹی کے ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کو مزید سخت کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باوجود عوامی مقامات پر سیکیورٹی کے انتظامات تسلی بخش نہیں ہیں۔
ابھی تک کسی بھی کالعدم تنظیم نے باضابطہ طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم تفتیشی ادارے سرحد پار سے سرگرم گروہوں کے ملوث ہونے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کو فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ دھماکہ خیز مواد کی نوعیت کا تعین کیا جا سکے۔
کوہاٹ کے رہائشیوں کے لیے یہ سانحہ ایک گہرا زخم چھوڑ گیا ہے۔ یہ مسجد برسوں سے مقامی لوگوں کا مرکز تھی، اور اس پر حملہ علاقے میں بدامنی پھیلانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
مقامی انتظامیہ نے واقعے کی انکوائری کا وعدہ کیا ہے کہ آخر سیکیورٹی میں غفلت کہاں ہوئی۔ لیکن لواحقین کے لیے یہ تحقیقات اپنے پیاروں کی واپسی کا متبادل نہیں بن سکتیں۔
