اسلام آباد نے مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر "گہری تشویش” کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کسی بڑی جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے۔
منگل کو دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں تمام فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور سفارتی راستوں کو بحال کریں۔ اسلام آباد کا یہ مؤقف بظاہر روایتی معلوم ہوتا ہے، لیکن اس بار لہجہ پہلے سے زیادہ سخت ہے، جو خطے میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام کے حوالے سے حکومتی حلقوں کی پریشانی کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس بحران کے مضمرات سنگین ہیں۔ ایک جانب انسانی المیے کا خدشہ ہے تو دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث تجارتی راستوں کی بندش اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ ہے—ایسے عوامل جو پہلے ہی مشکلات کا شکار پاکستانی معیشت کے لیے کسی نئے بحران سے کم نہیں۔ پالیسی سازوں کو بخوبی اندازہ ہے کہ اگر یہ تنازع پھیلا، تو ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان توازن برقرار رکھنا اسلام آباد کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔
اگرچہ حکومت کا اصرار ہے کہ عالمی قوانین کا احترام ہی واحد راستہ ہے، مگر ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بحران میں پاکستان کا سفارتی اثر و رسوخ محدود ہے۔ دفترِ خارجہ کا اصرار ہے کہ "احتیاطی سفارت کاری” ہی اس صورتحال سے نکلنے کا واحد حل ہے، تاہم بیان میں کسی مخصوص ملک یا گروہ کا نام لینے سے گریز کیا گیا ہے۔
یہ بیان پاکستان کی اس پرانی پالیسی کا حصہ ہے جس میں وہ علاقائی طاقتوں کے تنازعات میں فریق بننے سے بچتا آیا ہے۔ مگر اس بار بیان کی جلدی اور الفاظ کا چناؤ بتاتا ہے کہ وزارتِ خارجہ ایک طویل بحران کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے۔
ایک سفارتی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس آگ کو مزید پھیلنے سے روکے۔ اب یہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔”
فی الحال اسلام آباد تہران اور ریاض میں موجود اپنے سفارت خانوں کے ذریعے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ کیا یہ مطالبات واشنگٹن، تل ابیب یا تہران کے ایوانوں میں کوئی اثر دکھا پائیں گے؟ اس کا جواب آنے والے دنوں میں ہی ملے گا۔
