پنجاب بھر میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ بجلی کے ترسیلی نظام میں حائل یہ بحران ایندھن کی شدید قلت کا نتیجہ ہے، جس کے باعث صوبے کے کئی تھرمل پاور پلانٹس یا تو بند پڑے ہیں یا پھر اپنی پیداواری صلاحیت کے ایک چھوٹے حصے پر کام کر رہے ہیں۔
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ذرائع کے مطابق، طلب اور رسد کے درمیان فرق 5,000 میگاواٹ سے تجاوز کر چکا ہے۔ لاہور، فیصل آباد اور ملتان جیسے بڑے صنعتی شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ آٹھ گھنٹے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں صورتحال مزید ابتر ہے۔
اس بحران کی بنیادی وجہ مائع قدرتی گیس اور فرنس آئل کی بروقت فراہمی میں ناکامی ہے۔ پاور ڈویژن کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایندھن کے جہاز وقت پر نہ پہنچنے اور ذخائر ختم ہونے کے باعث گرڈ پر دباؤ ناقابل برداشت حد تک بڑھ گیا ہے۔
حکومت نے مہنگی بجلی پیدا کرنے والے تیل کے پلانٹس کو وقتی طور پر چلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ شارٹ فال کو کچھ حد تک کم کیا جا سکے۔ تاہم، ماہرینِ معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ مہنگے ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی کا بوجھ براہِ راست صارفین پر پڑے گا، جس سے اگلے ماہ کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
صنعتی مراکز میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ فیصل آباد کے ٹیکسٹائل سیکٹر سے وابستہ صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ بجلی کی بندش سے پیداواری عمل رک گیا ہے اور برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ بہت سی فیکٹریاں اب ڈیزل جنریٹرز پر انحصار کر رہی ہیں، جس سے ان کی لاگتِ پیداوار میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کا دعویٰ ہے کہ ایندھن کے نئے جہاز رواں ہفتے کے آخر تک بندرگاہ پر پہنچ جائیں گے، جس کے بعد بجلی کی فراہمی میں بتدریج بہتری آئے گی۔ لیکن حکومتی وعدوں اور زمینی حقائق کے درمیان موجود یہ خلا عام آدمی کے لیے گرمی اور اندھیروں کی صورت میں ایک کٹھن امتحان بنا ہوا ہے۔
