ماہرینِ سمندری حیات اب عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی کے منتظر نہیں رہے۔ سمندر میں مرجان کی چٹانوں کے سفید پڑنے اور مرنے کے واقعات اب دہائیوں میں نہیں، بلکہ ہر سال معمول بنتے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں سائنسدانوں نے جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے دو محاذوں پر کام شروع کر دیا ہے: ’سپر کورل‘ کی افزائش اور سمندر کے درجہ حرارت کو مصنوعی طور پر کم کرنا۔
یہ حکمت عملی روایتی تحفظ سے ہٹ کر براہِ راست انجینئرنگ کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ آسٹریلوی انسٹی ٹیوٹ آف میرین سائنس کے محققین اس وقت گرمی برداشت کرنے والے مرجان کی افزائش پر کام کر رہے ہیں۔ وہ ایسے مرجان منتخب کر رہے ہیں جن کے جینز میں تین ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
یہ ارتقائی عمل کا ایک مختصر راستہ ہے۔ محققین کا ماننا ہے کہ اگر وہ ان مزاحم جینز کی نشاندہی کر کے انہیں تیزی سے پھیلا سکیں، تو ایسی چٹانیں تیار کی جا سکتی ہیں جو اگلے بیس برسوں میں درجہ حرارت کے ممکنہ جھٹکوں کو برداشت کر سکیں۔
اس منصوبے کی ایک مرکزی محقق، ڈاکٹر ایلینا روسی کہتی ہیں، "ہم پورے ایکو سسٹم کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ ہم صرف وقت خرید رہے ہیں۔ اگر ہم چٹان کی بنیادی ساخت کو زندہ رکھنے میں کامیاب ہو گئے، تو دیگر سمندری حیات کو پھلنے پھولنے کا موقع مل جائے گا۔”
تاہم، حیاتیات کی بھی اپنی حدود ہیں۔ سب سے مضبوط مرجان بھی ایک خاص درجہ حرارت کے بعد زندہ نہیں رہ سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ سائنسدان اب دوسرے محاذ پر متحرک ہیں: سمندر کو مقامی سطح پر ٹھنڈا کرنا۔ انجینئرز ’میرین کلاؤڈ برائٹننگ‘ نامی ٹیکنالوجی کا تجربہ کر رہے ہیں۔ اس میں خصوصی جہازوں کے ذریعے سمندری پانی کی باریک دھند فضا میں چھوڑی جاتی ہے۔ یہ نمکیات کے ذرات بادلوں کو زیادہ سفید اور سورج کی روشنی منعکس کرنے کے قابل بنا دیتے ہیں۔ مقصد واضح ہے: سورج کی شعاعوں کو واپس خلا میں بھیج کر پانی کے درجہ حرارت میں معمولی کمی لانا۔
ابتدائی تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ گریٹ بیریئر ریف پر اس طریقہ کار سے مقامی سطح پر ٹھنڈک پیدا کی جا سکتی ہے۔ لیکن اصل چیلنج فزکس نہیں، بلکہ پیمانہ ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایک گہرے زخم پر مہنگی پٹی باندھنے کے مترادف ہیں۔ اگر سمندر کا درجہ حرارت اسی رفتار سے بڑھتا رہا، تو بڑے رقبے پر پھیلی چٹانوں کو ’سایہ‘ فراہم کرنے کے لیے درکار توانائی ناقابلِ عمل ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ، صرف گرمی برداشت کرنے والی اقسام کو فروغ دینے سے جینیاتی تنوع ختم ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
فی الحال، ماہرینِ تحفظِ ماحول ان علاقوں کو ترجیح دے رہے ہیں جہاں حیاتیاتی تنوع زیادہ ہے یا جو معاشی طور پر اہم ہیں۔
یہ وقت کے خلاف ایک بڑا جوا ہے۔ کیا یہ انجینئرڈ مرجان اور بادلوں کو روشن کرنے والے جہاز سمندر کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے سامنے ڈٹ سکیں گے؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ دنیا کتنی جلدی اصل مسئلے یعنی گلوبل وارمنگ کو حل کرنے کی طرف بڑھتی ہے۔
ایک محقق نے بریفنگ کے دوران کہا، "ہم ایک لائف رافٹ (بچاؤ کشتی) تیار کر رہے ہیں۔ لیکن لائف رافٹ تب ہی کارآمد ہوتا ہے جب آپ کسی محفوظ کنارے کی طرف بڑھ رہے ہوں۔”
