امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں میں دل کے دورے اور فالج کے خطرات کو کم کرنے کے لیے الائی للی کی دوا ‘مونجارو’ کے استعمال کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ طبی ماہرین کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ اب یہ دوا صرف شوگر کنٹرول کرنے تک محدود نہیں رہے گی۔
کلینیکل ٹرائلز کے نتائج سے ثابت ہوا ہے کہ مونجارو میں موجود فعال جزو ‘ٹیرزیپاٹائیڈ’ ان مریضوں میں دل کی پیچیدگیوں کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جنہیں پہلے سے دل کے امراض لاحق ہیں۔ یہ دوا جسم میں جی ایل پی-1 اور جی آئی پی ) ریسیپٹرز کو متحرک کر کے میٹابولک صحت کو بہتر بناتی ہے۔
ماہر امراضِ اینڈوکرائنولوجی، ڈاکٹر سارہ جینکنز کہتی ہیں، "اب توجہ صرف ایچ بی اے ون سی کے اعداد و شمار پر نہیں ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ میٹابولک صحت کو سنبھالتے ہوئے دل کو بھی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ یہ مریضوں کے علاج کے روایتی طریقوں میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔”
اس منظوری کے بعد ان مریضوں کے لیے انشورنس کوریج کے امکانات بڑھ گئے ہیں جو پہلے ہی شوگر کے لیے یہ دوا استعمال کر رہے تھے۔ تاہم، اس فیصلے نے سپلائی چین پر دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔ مونجارو اور اس کے وزن کم کرنے والے متبادل ‘زیپ باؤنڈ’ کی طلب میں اضافے کے باعث گزشتہ ایک سال سے مارکیٹ میں ان ادویات کی قلت دیکھی جا رہی ہے۔
الائی للی کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی مانگ کو کیسے پورا کرے گی۔ منظوری کے بعد مریضوں کی تعداد میں اضافہ یقینی ہے، اور کمپنی کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ دوا کی دستیابی متاثر نہ ہو۔
ان لاکھوں مریضوں کے لیے جو بیک وقت ذیابیطس اور دل کے امراض کا سامنا کر رہے ہیں، یہ ایک امید افزا قدم ہے۔ اب ایک ہی دوا کے ذریعے وہ اپنی شوگر کو بھی کنٹرول کر سکیں گے اور موت کے سب سے بڑے خطرے یعنی دل کے عارضے سے بھی خود کو محفوظ رکھ سکیں گے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، دوا کی نئی پیکنگ اور لیبلنگ آئندہ چند ہفتوں میں مارکیٹ میں نظر آنا شروع ہو جائے گی، جس سے کارڈیو ویسکولر پروٹوکولز میں اس دوا کا کردار مزید مستحکم ہوگا۔
