وزارت مذہبی امور کے مطابق حج 2027 کے لیے حکومتی اسکیم کے تحت درخواستیں دینے والے 84 ہزار سے زائد عازمین نے اپنی پہلی قسط جمع کروا دی ہے۔ یہ پیش رفت عازمین کی جانب سے سفرِ حج کی تیاریوں میں دلچسپی اور حکومتی نظام پر اعتماد کی عکاس ہے۔
حکومت نے اس بار درخواستوں کا عمل وقت سے کافی پہلے شروع کیا ہے۔ اس کا مقصد حج انتظامات کو منظم بنانا اور آخری لمحات میں ہونے والی افراتفری سے بچنا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ بروقت رقوم جمع ہونے سے سعودی عرب میں رہائش اور پروازوں کے معاہدے بہتر قیمتوں پر طے کرنے میں مدد ملے گی۔
تاہم، عازمین کے لیے اصل امتحان مالی بوجھ ہے۔ ملکی معاشی صورتحال کے پیش نظر، متوسط طبقے کے لیے حج اخراجات کی ادائیگی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگرچہ وزارت نے اخراجات کی شفافیت کا وعدہ کیا ہے، لیکن بہت سے عازمین کو خدشہ ہے کہ روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے باعث حتمی قسط کا بوجھ بڑھ سکتا ہے۔
وزارت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ "ہم نے اس بار جلدی عمل شروع کیا تاکہ موسمی قیمتوں میں اضافے سے بچا جا سکے۔ 84 ہزار سے زائد درخواستیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ معاشی دباؤ کے باوجود عازمین کے لیے حج کی ادائیگی اولین ترجیح ہے۔”
درخواستوں کا عمل اب مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو چکا ہے۔ اس تبدیلی نے دفاتر میں کاغذات کے انبار اور لمبی قطاروں کو تو ختم کر دیا ہے، لیکن دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کو انٹرنیٹ اور تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔ کئی ایسے عازمین اب بھی نجی بینکوں کے کاؤنٹرز پر مدد کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔
اب وزارت کی توجہ فلائٹ کوٹہ اور مکہ و مدینہ میں رہائش کے حتمی معاہدوں پر مرکوز ہے۔ جن عازمین نے پہلی قسط جمع کروا دی ہے، ان کی نظریں اب حج کے حتمی بجٹ پر ہیں۔ وزارت کی جانب سے اخراجات کو قابو میں رکھنا ہی اس سال کے حج آپریشن کی کامیابی کا اصل پیمانہ ہوگا۔
