امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ یہ دیکھنا پسند کریں گے کہ مالی مشکلات میں گھری اسپرٹ ایئرلائنز کو کوئی خریدار مل جائے، بجائے اس کے کہ کمپنی مکمل طور پر بند ہونے کی طرف چلی جائے۔ منگل کو ایک ٹی وی انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وفاقی حکومت کسی نہ کسی شکل میں مدد پر غور کر سکتی ہے، اگرچہ انہوں نے کسی واضح منصوبے کا اعلان نہیں کیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسپرٹ ایئرلائنز اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق کمپنی نے ٹرمپ انتظامیہ سے ممکنہ سرکاری سرمایہ کاری یا ہنگامی مدد کے لیے رابطے کیے ہیں، کیونکہ اسے نقدی کے دباؤ، بڑھتے ایندھن اخراجات اور دیوالیہ پن کے عمل کے دوران ممکنہ لیکویڈیشن کے خطرے کا سامنا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ کمپنی کے 14 ہزار سے زیادہ ملازمتوں پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے۔
اسپرٹ نے مارچ 2026 میں باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی تنظیمِ نو کے لیے Restructuring Support Agreement اور Plan of Reorganization عدالت میں دائر کر رہی ہے۔ کمپنی نے اس وقت کہا تھا کہ وہ گرمیوں کے آغاز تک چیپٹر 11 سے باہر آنے کی توقع رکھتی ہے۔ مطلب یہ کہ چند ہفتے پہلے تک اس کی کوشش یہ تھی کہ قرض کم کیا جائے، آپریشن کو سنبھالا جائے اور دیوالیہ پن سے منظم انداز میں نکلا جائے۔
مگر اب مسئلہ یہ ہے کہ حالات پھر بگڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافے نے اسپرٹ کے مالی تخمینے کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے اس کی تنظیمِ نو کا منصوبہ کمزور پڑ گیا ہے۔ اسی وجہ سے بازار میں یہ خدشہ بڑھا ہے کہ کمپنی دیوالیہ پن سے بحالی کے بجائے اثاثے سمیٹنے کی طرف جا سکتی ہے۔
ٹرمپ کے بیان کا ایک اور سیاسی پہلو بھی ہے۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے یونائیٹڈ اور امریکن ایئرلائنز کے ممکنہ انضمام کی مخالفت کی اور کہا کہ بڑے انضمام اکثر مسابقت کم کر دیتے ہیں۔ اس تناظر میں اسپرٹ کا معاملہ کچھ الگ نظر آتا ہے: ایک طرف کمپنی بہت کمزور ہو چکی ہے، دوسری طرف وہ کم قیمت فضائی سفر کے شعبے میں ایک اہم کھلاڑی سمجھی جاتی ہے، اس لیے اس کا غائب ہونا مسافروں کے لیے سستے کرایوں کے مزید کم ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔
فی الحال نہ کسی خریدار کا باضابطہ اعلان ہوا ہے، نہ کسی حکومتی پیکیج کی تصدیق ہوئی ہے۔ البتہ اتنا ضرور واضح ہے کہ اسپرٹ ایئرلائنز کا بحران اب اتنا سنگین ہو چکا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی سطح پر اس پر کھل کر بات ہو رہی ہے۔ یہی بات بتاتی ہے کہ آئندہ چند دن یا ہفتے اس کمپنی کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
