واشنگٹن/اسلام آباد، 24 اپریل 2026: امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی "جب تک ضرورت پڑی” جاری رہے گی، جس سے یہ اشارہ ملا ہے کہ واشنگٹن فوری طور پر سمندری دباؤ کم کرنے کے موڈ میں نہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق تہران نے امریکی مذاکرات کی بحالی کو اسی ناکہ بندی کے خاتمے سے جوڑ رکھا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ، یعنی CENTCOM، پہلے ہی اعلان کر چکی تھی کہ 13 اپریل 2026 سے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والی تمام بحری آمدورفت پر ناکہ بندی نافذ کی جائے گی۔ CENTCOM کے مطابق یہ پابندی خلیجِ عرب اور خلیجِ عمان کے ایرانی ساحلی علاقوں اور بندرگاہوں پر لاگو ہے، البتہ آبنائے ہرمز سے غیر ایرانی بندرگاہوں کی جانب جانے والے جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی بات بھی کی گئی تھی۔
جمعہ کو سامنے آنے والی رپورٹس میں کہا گیا کہ امریکی مؤقف اب مزید سخت دکھائی دے رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر ذرائع کے مطابق ہیگستھ نے کہا کہ ناکہ بندی کا دائرہ بڑھ رہا ہے، جبکہ ایک دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی خلیج کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہی رپورٹس میں امریکی فوجی حکام کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ حالیہ دنوں میں کچھ تجارتی جہاز روکے یا قبضے میں لیے گئے اور ایران سے منسلک بحری سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
یہ پیش رفت آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر عالمی توجہ کے مرکز میں لے آئی ہے۔ یہ آبی گذرگاہ دنیا کی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، اور جاری کشیدگی نے تیل و گیس کی ترسیل، جہازرانی اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکی حکام نے ایران کو سمندری بارودی سرنگیں بچھانے سے بھی خبردار کیا ہے، اور کہا ہے کہ ایسی کسی کارروائی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جا سکتا ہے۔
دوسری طرف سفارتی کوششیں مکمل طور پر رکی نہیں ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، اور اس کے بعد عمان اور روس جانے کا بھی پروگرام ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کو بحال کرنے کی کوششوں میں کردار ادا کر رہا ہے، اگرچہ فوری پیش رفت کے آثار ابھی واضح نہیں۔
یوں جمعے کی صورتِ حال ایک عجیب توازن لیے ہوئے تھی: ایک طرف امریکی بحری دباؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، دوسری طرف سفارتی چینل ابھی بند نہیں ہوئے۔ مگر فی الحال دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلاف برقرار ہے — ایران ناکہ بندی کے خاتمے کو ترجیح دے رہا ہے، جبکہ امریکا کہہ رہا ہے کہ یہ دباؤ ابھی برقرار رہے گا۔
