تنزانیہ میں حالیہ انتخابات کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات میں 500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں ہوا ہے، جس نے ملک کی سیاسی تاریخ کے اس تاریک باب کو سرکاری سطح پر تسلیم کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ ہلاکتیں محض جھڑپوں کا نتیجہ نہیں تھیں بلکہ پولنگ کے عمل کے دوران سکیورٹی انتظامات کی ناکامی اور ریاستی طاقت کے بے جا استعمال کی داستان ہیں۔ زیادہ تر اموات اپوزیشن کارکنوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم کے دوران ہوئیں۔ کئی پولنگ اسٹیشنز، جو جمہوریت کا مرکز ہونے چاہیے تھے، چند گھنٹوں میں میدانِ جنگ میں بدل گئے۔
حکومت، جس نے طویل عرصے تک ہلاکتوں کی ان اطلاعات کو مسترد کیا تھا، اب شدید دباؤ میں ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں برسوں سے یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے تھیں کہ پولیس نے اختلافِ رائے کو کچلنے کے لیے طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا، مگر اب یہ سرکاری اعتراف اس بیانیے کو تقویت دے رہا ہے کہ ریاست کا ردعمل مہلک ثابت ہوا۔
تحقیقاتی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "جب تک لواحقین کو انصاف نہیں ملتا، ملک میں امن کا قیام ممکن نہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ 500 کی تعداد حتمی نہیں ہے، کیونکہ دور دراز علاقوں میں ہونے والی کئی ہلاکتیں ریکارڈ کا حصہ ہی نہیں بن سکیں۔
اس رپورٹ کے بعد سیاسی منظرنامہ مزید دھندلا گیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف عالمی سطح پر تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ محض غیر ملکی ڈونرز کو خوش کرنے کی ایک کوشش ہے، جس کا مقصد اصل مجرموں کو بچانا ہے۔
خطے میں معاشی استحکام بھی خطرے میں ہے۔ پڑوسی ممالک کو خدشہ ہے کہ یہ انتشار سرحد پار کر سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں نے بھی تنزانیہ میں اپنے مستقبل کے منصوبوں پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔
رپورٹ میں انتخابی اصلاحات کی تجاویز تو دی گئی ہیں، لیکن ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے یہ کاغذ کا ٹکڑا کوئی تسلی نہیں رکھتا۔ حکومت نے تاحال کسی بھی اعلیٰ پولیس افسر یا ذمہ دار کے خلاف کارروائی کا اعلان نہیں کیا۔ فی الحال، انتظامیہ کی خاموشی اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ احتساب کا عمل شروع ہونے میں ابھی طویل وقت درکار ہے۔
