راولپنڈی: پاکستان تحریکِ انصاف کی سینئر قیادت مسلسل دوسرے ہفتے بھی اڈیالہ جیل نہ پہنچی، جس کے باعث بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جمعرات کے روز ہونے والی عدالتی حکم کے تحت طے شدہ ملاقات نہ ہو سکی۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق پارٹی کی اہم شخصیات کے نام پہلے ہی جیل انتظامیہ کو بھجوا دیے گئے تھے، مگر مقررہ وقت گزرنے کے باوجود کوئی رہنما ملاقات کے لیے نہیں پہنچا۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ مارچ 2025 میں عمران خان کی ہفتے میں دو بار ملاقاتوں کا حق بحال کر چکی تھی۔ اس عدالتی ترتیب کے تحت منگل اور جمعرات کو اہلِ خانہ، وکلا اور دیگر مجاز افراد کو ملاقات کی اجازت دی گئی تھی، جبکہ میڈیا ٹاک پر بھی پابندی لگائی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق اس بار جو نام جیل حکام کو بھیجے گئے، ان میں بیرسٹر گوہر علی خان، سلمان اکرم راجہ، لطیف کھوسہ، بابر اعوان، حامد خان اور انتظار پنجوتھا شامل تھے۔ اس کے باوجود کوئی بھی شخصیت اڈیالہ جیل نہ پہنچی۔ یہی نکتہ اب سیاسی حلقوں میں بحث کا مرکز بنا ہوا ہے، کیونکہ سوال صرف ملاقات نہ ہونے کا نہیں بلکہ اس بات کا بھی ہے کہ آخر پارٹی کی پوری نامزد قیادت بیک وقت کیوں غیر حاضر رہی۔
کچھ وضاحتیں ضرور سامنے آئیں۔ ایک مؤقف کے مطابق بیرسٹر گوہر لاہور میں تھے اور سلمان اکرم راجہ عدالتی مصروفیات میں الجھے ہوئے تھے، مگر اس سے یہ سوال ختم نہیں ہوتا کہ باقی رہنما کیوں نہیں آئے۔ یہی خلا اب پی ٹی آئی کے اندرونی رابطوں، ترجیحات اور ممکنہ اختلافات سے متعلق چہ مگوئی کو بڑھا رہا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے بھی اس صورتِ حال کو پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے تناؤ سے جوڑ کر دیکھا ہے۔
اس واقعے کو پچھلے چند ہفتوں کے پس منظر میں دیکھا جائے تو تصویر اور واضح ہو جاتی ہے۔ اپریل کے آغاز میں بھی پی ٹی آئی رہنماؤں نے شکایت کی تھی کہ نام جمع کرانے کے باوجود انہیں عمران خان سے ملنے نہیں دیا گیا۔ یعنی مسئلہ صرف ایک دن کی غیر حاضری تک محدود نہیں دکھائی دیتا؛ ایک طرف رسائی کے حوالے سے مستقل شکایات ہیں، دوسری طرف اب خود پارٹی کی صفِ اول کی قیادت کی عدم موجودگی نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
پی ٹی آئی کے لیے اس کے سیاسی اثرات بھی کم نہیں۔ عمران خان بدستور پارٹی کی مرکزی سیاسی قوت ہیں، اور ان سے ملاقات کو تنظیمی مشاورت، قانونی حکمتِ عملی اور سیاسی پیغام رسانی کے تناظر میں بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر عدالتی حکم کے باوجود ایک طے شدہ دن پر کوئی بڑا رہنما جیل نہ پہنچے، تو اس سے پارٹی کے نظم و ضبط اور اندرونی ہم آہنگی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ یہ تاثر مختلف رپورٹوں سے اخذ کیا جا رہا ہے، اگرچہ پارٹی کی جانب سے اس کی مکمل اور واضح وضاحت سامنے نہیں آئی۔
فی الحال حقیقت یہی ہے کہ جمعرات کا ایک اور مقررہ دن گزر گیا، ملاقات نہ ہو سکی، اور عمران خان اپنی جماعت کی سینئر قیادت سے نہ مل سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی اس معاملے پر کیا مؤقف اختیار کرتی ہے، اور آیا عدالتی حکم کے تحت طے شدہ ملاقاتوں کا سلسلہ واقعی معمول پر آ پاتا ہے یا نہیں۔
