اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو صدارتی معافی دینے کے معاملے پر فوری فیصلہ کرنے کے بجائے اسے مؤخر کر دیا ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق وہ اس کیس کے حل کے لیے پلی بارگین یا مشروط سمجھوتے کی راہ کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ہرزوگ کے دفتر نے اس معاملے کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی فیصلے سے پہلے قانونی جانچ کی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیتن یاہو نے اپنے جاری کرپشن ٹرائل کے دوران صدارتی معافی کی درخواست دی ہے۔ ان پر رشوت، فراڈ اور امانت میں خیانت سے متعلق مقدمات چل رہے ہیں، جن کی وہ مسلسل تردید کرتے آئے ہیں۔ ان کے خلاف فردِ جرم 2019 میں عائد ہوئی تھی، جبکہ مقدمے کی باقاعدہ سماعت 2020 میں شروع ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق ہرزوگ براہِ راست اور غیر مشروط معافی دینے کے بجائے ایسے قانونی راستے پر زور دے سکتے ہیں جس کے تحت مقدمہ کسی مفاہمتی فارمولے یا پلی بارگین کے ذریعے ختم ہو۔ اس سے ایک طرف عدالتی عمل مکمل طور پر نظرانداز نہیں ہوگا، اور دوسری طرف اسرائیل کی سیاست میں کئی برس سے جاری اس حساس قانونی تنازعے کا کوئی درمیانی حل نکل سکتا ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک قانونی کیس نہیں رہا، بلکہ اسرائیل میں اداروں کی ساکھ، قانون کی بالادستی اور سیاسی طاقت کے استعمال سے جڑی ایک بڑی بحث بن چکا ہے۔ اسی لیے نیتن یاہو کو ممکنہ معافی یا پلی بارگین سے متعلق ہر پیش رفت کو اسرائیل میں محض عدالتی نہیں، بلکہ گہری سیاسی خبر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
