استحکامِ پاکستان پارٹی نے گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے لیے اپنی انتخابی مہم کو عملی شکل دیتے ہوئے پہلے مرحلے میں 9 نشستوں پر امیدواروں کے نام فائنل کر دیے ہیں۔ پارٹی کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گلگت بلتستان میں 7 جون 2026 کو عام انتخابات ہونا ہیں اور مختلف سیاسی جماعتیں میدان میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔
پارٹی کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق جن 9 امیدواروں کے ناموں کی منظوری دی گئی ہے ان میں مولانا سلطان رئیس، فتح اللہ خان، کیپٹن (ر) شفیع اللہ خان، ایمان شاہ، راجہ جلال حسین، شمس الحق لون، حاجی شاہ بیگ، حاجی گلبر خان اور خان اکبر خان شامل ہیں۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ یہ امیدواروں کی پہلی فہرست ہے، جبکہ باقی نشستوں کے لیے ناموں کا اعلان آئندہ دنوں میں کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ آئی پی پی کے 20 رکنی انتخابی بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت عبدالعلیم خان نے کی۔ اسی عمل سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ پارٹی گلگت بلتستان میں محض علامتی شرکت نہیں بلکہ باقاعدہ انتخابی مقابلے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس سے ایک روز پہلے پارٹی یہ اعلان بھی کر چکی تھی کہ وہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں تمام نشستوں پر حصہ لے گی۔
گلگت بلتستان کے انتخابات کا شیڈول الیکشن کمیشن پہلے ہی جاری کر چکا ہے، جس کے مطابق پولنگ 7 جون 2026 کو ہوگی۔ سرکاری شیڈول کے تحت کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے، جانچ پڑتال، اپیلوں اور دستبرداری کے مراحل اپریل اور مئی میں مکمل کیے جا رہے ہیں، جس کے بعد انتخابی سرگرمیاں مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔
آئی پی پی کی حالیہ پیش رفت صرف امیدواروں کے اعلان تک محدود نہیں۔ پارٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی 9 مخصوص نشستوں کے لیے نام ابھی زیر غور ہیں۔ ساتھ ہی، اسلامی تحریک پاکستان کے ساتھ ممکنہ انتخابی اتحاد کا عندیہ بھی دیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی اپنی انتخابی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کے عمل میں ہے۔
سیاسی لحاظ سے دیکھا جائے تو گلگت بلتستان میں مقابلہ بتدریج دلچسپ ہوتا جا رہا ہے۔ مختلف جماعتیں پہلے ہی متحرک ہیں اور انتخابی مہم میں مقامی شخصیات، برادریوں اور علاقائی اثر و رسوخ کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ ایسے میں آئی پی پی کے لیے اصل امتحان یہی ہوگا کہ کیا وہ امیدواروں کی اس ابتدائی فہرست کو ایک مؤثر عوامی مہم میں بدل پاتی ہے یا نہیں۔
ابھی تک کے اشارے یہی بتاتے ہیں کہ پارٹی پہلے مرحلے میں مقامی طور پر پہچانی جانے والی شخصیات کو سامنے لا کر اپنی موجودگی مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ تاہم اصل صورتحال تب واضح ہوگی جب انتخابی مہم حلقہ وار سطح پر تیز ہوگی اور ووٹرز کے سامنے وعدوں کے بجائے زمینی طاقت کا امتحان شروع ہوگا۔
