اسرائیلی فورسز نے سابق جماعتِ اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کو اُس وقت حراست میں لے لیا جب وہ "گلوبل سُمود فلوٹیلا” نامی انسانی ہمدردی پر مبنی بحری قافلے میں سوار تھے، جو غزہ کے لیے طبی امداد اور غذائی سامان لے کر جا رہا تھا۔ اس گرفتاری کی تصدیق 2 اکتوبر کو حکام نے کی۔
پاکستان کے وزارتِ خارجہ کے مطابق حکومتِ پاکستان اپنی اردن میں موجود سفارت خانے کے ذریعے مشتاق احمد خان کی محفوظ اور جلد رہائی کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کر رہی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ مقامی قانونی تقاضوں کے تحت سابق سینیٹر کو رہائی سے قبل عدالت میں پیش کیا جائے گا، اور ان کی وطن واپسی آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق مشتاق احمد خان پانچ رکنی پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے تھے جو اس بین الاقوامی امدادی قافلے کا حصہ تھا۔ یہ قافلہ 40 سے زائد سول کشتیوں پر مشتمل تھا جس میں 500 کے قریب ارکانِ پارلیمنٹ، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنان شامل تھے۔ ان کا مقصد غزہ کے عوام تک ضروری انسانی امداد پہنچانا تھا جو طویل عرصے سے جاری محاصرے کا شکار ہیں۔
وزارتِ خارجہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان اپنے تمام شہریوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے پرعزم ہے جو بین الاقوامی انسانی مشنوں میں شریک ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ حکومت کی سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ مشتاق احمد خان کی باعزت اور محفوظ وطن واپسی ممکن بنائی جا سکے۔
