اسلام آباد/واشنگٹن، 21 اپریل 2026 — امریکا اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، مگر اس کے ساتھ جڑی سفارت کاری ابھی تک دھند میں لپٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ امریکی اور پاکستانی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے ایک اور دور کی تیاری ہو رہی ہے، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے منگل کو کہا کہ اب تک ایران کا کوئی وفد اسلام آباد نہیں پہنچا۔ یہی تضاد اس وقت پوری کہانی کا مرکزی نکتہ بن گیا ہے۔
موجودہ دو ہفتوں کی جنگ بندی 8 اپریل کو شروع ہوئی تھی اور یہ بدھ، 22 اپریل 2026، کو ختم ہونے والی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی میں توسیع کا امکان بہت کم ہے۔ اس بیان نے مذاکرات پر وقت کا دباؤ اور بڑھا دیا ہے، کیونکہ اب ہر گھنٹہ اہم بنتا جا رہا ہے۔
امریکی جانب سے اشارہ یہی ہے کہ بات چیت کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ رپورٹس کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس امریکی وفد کی قیادت کر سکتے ہیں، جبکہ پاکستان ایک بار پھر ثالث کے طور پر متحرک ہے۔ اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں اور سفارتی رابطے بھی جاری ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ میز ابھی اٹھی نہیں، بس فریقین کے پہنچنے کا انتظار ہے۔
لیکن ایرانی مؤقف کھلا اور سیدھا ہونے کے بجائے محتاط اور سخت دکھائی دے رہا ہے۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران “دھمکیوں کے سائے میں” مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔ اسی کے ساتھ ایرانی سرکاری نشریات میں یہ پیغام بھی نشر ہوا کہ اب تک کوئی ایرانی وفد اسلام آباد نہیں گیا۔ اس سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ ایران یا تو آخری لمحے تک دباؤ سے بچنا چاہتا ہے، یا پھر واقعی فیصلہ کن طور پر شریک ہونے پر آمادہ نہیں۔
یہ غیر یقینی فضا خالی جگہ میں پیدا نہیں ہوئی۔ اسلام آباد میں 11 اور 12 اپریل کو ہونے والا پہلا دورِ مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوا تھا۔ وہ رابطہ کئی دہائیوں میں امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کی نمایاں بات چیت میں شمار کیا گیا، مگر بنیادی اختلافات برقرار رہے، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق معاملات پر۔
صورتحال اس وقت مزید بگڑی جب آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی پرچم بردار جہاز کی امریکی کارروائی میں ضبطی کی خبر سامنے آئی۔ امریکی مؤقف یہ تھا کہ جہاز ناکہ بندی سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ ایران نے اسے کھلی اشتعال انگیزی اور سمندری جارحیت کے طور پر دیکھا۔ اس واقعے نے پہلے ہی کمزور جنگ بندی پر مزید سوالات کھڑے کر دیے۔
آبنائے ہرمز کا معاملہ صرف عسکری نہیں بلکہ معاشی بھی ہے۔ اس سمندری گزرگاہ کی بندش اور امریکی ناکہ بندی نے ایرانی تیل کی برآمدات پر دباؤ بڑھایا ہے، حالانکہ ایران کچھ تیل خلیجِ عمان کی طرف جانے والی پائپ لائن کے ذریعے نکالنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کا مطلب صرف محاذ پر کشیدگی نہیں ہوگا، بلکہ عالمی توانائی منڈیوں میں نئی بے چینی بھی ہو سکتی ہے۔
پاکستان اس سارے عمل میں رابطہ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستانی ثالثوں کو یہ اشارہ ملا تھا کہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کار بدھ کی صبح اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں، جبکہ دفترِ خارجہ کے رابطے بھی تیز کیے گئے ہیں۔ تاہم اصل مسئلہ وہی ہے: جب ایک فریق آنے کی تیاری ظاہر کرے اور دوسرا کھل کر تصدیق نہ کرے، تو پیش رفت کا ہر دعویٰ معلق رہتا ہے۔
اس وقت کی تصویر کچھ یوں ہے: مقام تیار ہے، ثالث سرگرم ہیں، امریکی مؤقف یہ ہے کہ مذاکرات ممکن ہیں، مگر ایران اب بھی محتاط، ناراض اور غیر واضح دکھائی دیتا ہے۔ یہی ابہام آنے والے چند گھنٹوں کو نہایت حساس بنا رہا ہے۔ جنگ بندی ابھی ختم نہیں ہوئی، مگر اس کی بقا اب واضح یقین پر نہیں بلکہ آخری لمحے کی سفارت کاری پر ٹکی ہوئی نظر آتی ہے۔
