واشنگٹن — مصنوعی ذہانت کے کنٹرول اور ضوابط کے معاملے پر این ویڈیا، مائیکروسافٹ، میٹا اور آئی بی ایم سمیت دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے جمعے کے روز امریکی قانون سازوں کے سامنے اوپن سورس مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے حق میں ایک مضبوط پبلک کیس پیش کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ ایک مشترکہ خط میں، این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ اور دو درجن سے زائد کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ اوپن سورس ماڈلز پر قبل از وقت پابندیاں مارکیٹ میں مقابلے کی فضا کو ختم کر دیں گی اور اس جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کو ملک سے باہر منتقل کرنے کا سبب بنیں گی۔ یہ تنازع ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب اوپن سورس اور اوپن ڈائریکٹری ماڈلز کے مقابلے میں اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی کمپنیوں کے بند (کلوزڈ سورس) ماڈلز کی مانیٹرنگ پر بحث جاری ہے۔
سلیکون ویلی کے کاروباری رہنماؤں نے حالیہ مہینوں میں کلوزڈ سورس ماڈلز کی بھاری لاگت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ مائیکروسافٹ اور دفاعی کنٹریکٹر پالانٹیر کے سربراہان کا کہنا ہے کہ اوپن سورس ماڈلز کمپنیوں کو اپنے ڈیٹا سینٹرز کے اندر کام کرنے کی آزادی دیتے ہیں جس سے اخراجات کنٹرول میں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ، حال ہی میں ہیکنگ کا شکار ہونے والے پلیٹ فارم ‘ہگنگ فیس’ نے انکشاف کیا کہ کلوزڈ سورس ماڈلز پر عائد سیکیورٹی پابندیوں کے باعث انہیں سائبر حملے کے خلاف دفاع کے لیے ایک چینی اوپن سورس ماڈل کا سہارا لینا پڑا۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنے خط میں واضح کیا کہ صرف کلوزڈ ماڈلز پر انحصار کرنا محفوظ نہیں ہے کیونکہ ان میں خامیاں بیرونی دنیا کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں، جبکہ اوپن سورس ماڈلز کے کوڈز کھلے ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کے محققین ان کی خامیوں کو جلد پکڑ کر ان کا بہتر حل تلاش کر سکتے ہیں۔
