یوکرین کے دارالحکومت کییف کے ہولوسیئیفسکی ضلع میں ہفتے، 18 اپریل 2026، ایک مسلح شخص نے سڑک پر لوگوں پر فائرنگ کی، پھر قریب واقع ایک سپر مارکیٹ میں گھس کر یرغمال بنا لیے۔ یوکرینی حکام کے مطابق اس واقعے میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس آپریشن کے دوران حملہ آور بھی مارا گیا۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق حملہ آور نے پہلے باہر فائرنگ کر کے 4 افراد کو قتل کیا، پھر سپر مارکیٹ کے اندر ایک اور شخص کو گولی ماری۔ بعد میں کییف کے میئر ویتالی کلچکو نے کہا کہ ایک نوجوان خاتون اسپتال میں دم توڑ گئی، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 6 ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی خبروں میں تعداد 5 بتائی گئی، مگر بعد کی سرکاری معلومات میں یہ بڑھ گئی۔
حکام نے بتایا کہ پولیس نے فوری دھاوا بولنے کے بجائے پہلے مذاکرات کی کوشش کی۔ وزیرِ داخلہ ایہور کلیمینکو کے مطابق تقریباً 40 منٹ تک حملہ آور سے رابطہ کرنے کی کوشش ہوتی رہی، اور اسے طبی امداد کی پیشکش بھی کی گئی کیونکہ شبہ تھا کہ اندر کوئی زخمی موجود ہے۔ جب بات چیت سے معاملہ حل نہ ہوا تو خصوصی پولیس یونٹ نے عمارت میں داخل ہو کر کارروائی کی، جہاں مزاحمت کے دوران حملہ آور مارا گیا۔
اس واقعے کے بعد جائے وقوعہ پر شدید افرا تفری دیکھی گئی۔ ٹیلی وژن فوٹیج میں مسلح اہلکاروں کو شاپنگ کمپلیکس کے اندر پوزیشن لیتے اور شہریوں کو علاقے سے نکالتے دیکھا گیا۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ حملہ آور نے یرغمال بنائے تھے، جبکہ بعد کی بعض رپورٹوں میں چند یرغمالیوں کے بحفاظت نکالے جانے کا بھی ذکر آیا، تاہم بنیادی سرکاری مؤقف یہی ہے کہ آپریشن کے بعد صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔
تحقیقات میں ایک اہم نکتہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ حملہ آور کے پاس قانونی طور پر رجسٹرڈ کاربائن تھی۔ کلیمینکو کے مطابق اس شخص نے 2025 کے آخر میں اپنے اسلحہ پرمٹ کی تجدید کے لیے کاغذات جمع کرائے تھے، جن میں ایک میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی شامل تھا۔ اب حکام یہ جانچ رہے ہیں کہ یہ طبی تصدیق کیسے جاری ہوئی اور آیا نظام میں کہیں کوتاہی ہوئی یا نہیں۔
ابھی تک حملے کا واضح محرک سامنے نہیں آیا۔ موجودہ معلومات کے مطابق پولیس اور استغاثہ حملہ آور کی شناخت، ذہنی حالت، اسلحے تک اس کی رسائی، اور واقعے سے پہلے کے اس کے رابطوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس مرحلے پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ کییف، جو پہلے ہی جنگی دباؤ کے سائے میں زندگی گزار رہا ہے، ایک اور شدید داخلی سانحے سے دوچار ہوا ہے۔
