سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2012 کی بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں سزائے موت پانے والے دو ملزمان، زبیر عرف چریا اور عبدالرحمن عرف بھولا کی سزائیں کالعدم قرار دے دی ہیں۔
جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے منگل کے روز یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے ٹھوس اور ناقابل تردید شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری یہ قانونی مقدمہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔
سن 2012 میں کراچی کی علی انٹرپرائزز گارمنٹ فیکٹری میں لگنے والی آگ ملکی تاریخ کے بدترین صنعتی حادثات میں سے ایک ہے۔ اس ہولناک واقعے میں 250 سے زائد مزدور عمارت کے اندر جھلس کر جاں بحق ہوئے تھے، کیونکہ فیکٹری کے ہنگامی اخراج کے دروازے مقفل تھے۔
برسوں تک اس واقعے کو بھتے کی عدم ادائیگی پر انتقامی کارروائی کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ سندھ ہائی کورٹ نے استغاثہ کے اس مؤقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے ملزمان کی سزائے موت برقرار رکھی تھی کہ فیکٹری کو جان بوجھ کر آگ لگائی گئی۔
منگل کا عدالتی فیصلہ اس بیانیے میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے اختیار کردہ شواہد کے معیار پر سوال اٹھائے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ گواہوں کے بیانات میں تضادات موجود تھے، جو سزائے موت جیسے سنگین فیصلے کے لیے کافی نہیں تھے۔
دفاعی وکلاء نے اپیل کے دوران مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کے اعترافی بیانات دباؤ میں لیے گئے تھے۔ سپریم کورٹ کا سزائیں کالعدم قرار دینے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ بینچ نے ان دعووں کو درست تسلیم کیا ہے کہ شواہد کی بنیاد کمزور تھی۔
وہ لواحقین جو بارہ سال سے انصاف کے منتظر تھے، اب ایک قانونی خلا کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس بریت کے بعد ریاست کے پاس اس جرم کا کوئی واضح مجرم نہیں بچا۔ یہ واقعہ کراچی میں صنعتی تحفظ اور سیاسی تشدد کے حوالے سے ایک گہرا زخم ہے جو اب بھی رستا محسوس ہوتا ہے۔
