ملتان سلطانز نے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے ایک رنز سے بھرپور پی ایس ایل مقابلے میں کراچی کنگز کو 11 رنز سے شکست دے کر اہم کامیابی حاصل کر لی۔ ملتان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 7 وکٹ پر 207 رنز بنائے، جبکہ کراچی کی ٹیم بھرپور مزاحمت کے باوجود 19.4 اوورز میں 196 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ اس جیت کے ساتھ ملتان کو دو اہم پوائنٹس بھی ملے۔
ملتان کی اننگز کا آغاز ہی جارحانہ تھا۔ پاور پلے میں ٹیم نے 69 رنز بنا کر کراچی کے بولرز پر ابتدائی دباؤ ڈال دیا۔ جوش فلپ نے 23 گیندوں پر 44 رنز کی تیز اننگز کھیلی، جبکہ شان مسعود نے 25 گیندوں پر 46 رنز بنا کر رفتار کو برقرار رکھا۔ 9.5 اوورز میں 100 رنز مکمل ہونا اس بات کی علامت تھا کہ سلطانز اس میچ کو ایک بڑے اسکور کی طرف لے جا رہے ہیں۔

ملتان کی بیٹنگ میں شاید ایک بہت بڑی انفرادی سنچری نظر نہیں آئی، لیکن ٹیم نے وقفے وقفے سے ایسے چھوٹے مگر اہم حملے کیے جنہوں نے مجموعی اسکور کو خطرناک بنا دیا۔ اسٹریٹجک ٹائم آؤٹ تک اسکور 121 پر 3 تھا، 15ویں اوور تک 150 رنز مکمل ہو چکے تھے، اور اننگز کے اختتام سے ذرا پہلے ٹیم 200 کے ہندسے سے بھی آگے نکل گئی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں کراچی پر ہدف کا دباؤ واضح طور پر بڑھ گیا۔
کراچی کنگز کے تعاقب کا آغاز اچھا نہیں رہا۔ پاور پلے میں ہی تین وکٹیں گرنے سے اننگز کی ساخت متاثر ہو گئی اور ٹیم 6 اوورز میں 49 پر 3 تھی۔ اس کے باوجود کراچی نے میچ سے ہاتھ نہیں کھینچا۔ رییزا ہینڈرکس اور معین علی کے درمیان شراکت نے اننگز کو کچھ سنبھالا، اور 15.3 اوورز میں 150 رنز مکمل ہونے کے بعد ایسا لگنے لگا کہ مقابلہ آخری اوورز تک جا سکتا ہے۔
اصل سنسنی اختتامی لمحات میں پیدا ہوئی، جب عباس آفریدی اور حسن علی نے جارحانہ شاٹس کھیل کر میچ کو یکایک دلچسپ بنا دیا۔ ایک وقت ایسا محسوس ہوا کہ کراچی ناممکن نظر آنے والے تعاقب کو بھی ممکن بنا سکتا ہے، لیکن ملتان نے دباؤ میں خود کو سنبھالے رکھا۔ آخری اوور میں حسن علی 10 گیندوں پر 23 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے اور اسی کے ساتھ کراچی کی آخری امید بھی ختم ہو گئی۔
اس میچ میں عارفات منہاس کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ ایک ایسے مقابلے میں جہاں دونوں ٹیموں نے ملا کر 400 سے زیادہ رنز بنائے، وہاں وکٹیں لینے کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ملتان کے بولرز نے ہر وقت مکمل کنٹرول تو نہیں رکھا، مگر انہوں نے اہم مواقع پر کامیابیاں حاصل کیں، اور یہی فرق آخر میں فیصلہ کن ثابت ہوا۔
کراچی کے لیے یہ شکست خاصی تکلیف دہ ہوگی، کیونکہ خراب آغاز کے باوجود ٹیم نے آخری اوورز میں شاندار واپسی کی کوشش کی تھی۔ دوسری جانب ملتان سلطانز کے لیے یہ جیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی بیٹنگ اب بھی اتنی طاقت رکھتی ہے کہ ایک اچھے آغاز کے بعد میچ کا رخ اپنے حق میں موڑ سکے۔ مجموعی طور پر یہ ایک ایسا پی ایس ایل مقابلہ تھا جس میں رنز بھی تھے، دباؤ بھی، اور آخری لمحے تک سنسنی بھی برقرار رہی۔
