بنگلورو میں کھیلے گئے واحد ٹیسٹ میچ میں بھارت نے افغانستان کو ایک اننگز اور 262 رنز سے شکست دے کر اپنی کرکٹ تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔
میچ کا فیصلہ پہلے ہی دن سے بھارت کے حق میں نظر آ رہا تھا، لیکن ڈیبیو کرنے والے بائیں ہاتھ کے اسپنر مانو سوتھر نے اسے یکطرفہ بنا دیا۔ سوتھر نے دوسری اننگز میں 48 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کیں اور میچ میں مجموعی طور پر نو شکار کیے۔ افغان ٹیم، جس پر پہلی اننگز کے بڑے خسارے کا دباؤ تھا، صرف 34 اوورز میں 111 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
بھارتی بلے بازوں نے میچ کے پہلے ہی دن 520 رنز کا پہاڑ کھڑا کر کے افغانستان کے حوصلے پست کر دیے تھے۔ پچ اسپنرز کے لیے سازگار تھی، جس کا بھرپور فائدہ بھارتی بولرز نے اٹھایا۔ 22 سالہ سوتھر نے اپنی نپی تلی بولنگ سے افغان مڈل آرڈر کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ ان کی کارکردگی اس لحاظ سے اہم ہے کہ انہوں نے ٹیسٹ ڈیبیو پر ہی وہ پختگی دکھائی جو بڑے بولرز کا خاصہ ہوتی ہے۔
میچ کے بعد پریس کانفرنس میں سوتھر نے کہا کہ "میری پوری توجہ صرف درست لائن اور لینتھ پر تھی، پچ بولرز کی مدد کر رہی تھی لیکن گیند کو بار بار ایک ہی جگہ پر پٹخنا اصل چیلنج تھا۔”
افغانستان کے لیے یہ شکست ایک بڑا سبق ہے۔ مختصر فارمیٹس میں شاندار کارکردگی کے باوجود، طویل فارمیٹ میں ان کی بیٹنگ لائن اپ بھارتی اسپن ٹریو (سوتھر، ایشون اور جدیجا) کے سامنے بے بس نظر آئی۔ افغان ٹیم کی آخری پانچ وکٹیں صرف 38 رنز کے اضافے کے ساتھ گر گئیں۔
یہ فتح 2007 میں بنگلہ دیش کے خلاف حاصل کردہ ایک اننگز اور 239 رنز کی جیت کا ریکارڈ توڑ کر بھارت کی سب سے بڑی کامیابی بن گئی ہے۔ اس جیت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بھارتی اسپن اٹیک، خاص طور پر سوتھر جیسے نئے ٹیلنٹ کی شمولیت کے بعد، دنیا کے کسی بھی حریف کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہو سکتا ہے۔
سیریز کے اس یکطرفہ اختتام کے بعد، اب سلیکٹرز کے لیے آئندہ دوروں کے لیے بولنگ لائن اپ کا انتخاب ایک خوشگوار دردِ سر بن چکا ہے۔ سوتھر نے اپنی کارکردگی سے ٹیم میں اپنی جگہ پکی کرنے کے لیے مضبوط دعویٰ پیش کر دیا ہے۔
