برینڈن میکلم دوسرے ٹیسٹ میچ میں جوفرا آرچر کی واپسی کے لیے پرامید ہیں، باوجود اس کے کہ فاسٹ باؤلر کے ورک لوڈ کو سنبھالنا انگلش ٹیم انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
آرچر—جو کہ کہنی اور کمر کی طویل انجریز کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس لوٹے ہیں—کو پہلے ٹیسٹ سے باہر رکھا گیا تھا۔ انگلش میڈیکل اسٹاف ان کی فٹنس پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں اور ان کی طویل مدتی دستیابی کو ترجیح دے رہا ہے۔ میکلم نے تصدیق کی ہے کہ ویلنگٹن میں ہونے والے اگلے ٹیسٹ کے لیے آرچر کے کھیلنے کے امکانات موجود ہیں۔
میکلم کا کہنا تھا کہ "ہم پرامید ہیں۔ وہ بہتری کی جانب گامزن ہیں، لیکن ہم ان جیسے معیار کے کھلاڑی کو اس وقت تک میدان میں نہیں اتاریں گے جب تک ان کا جسم پانچ روزہ میچ کی سختیوں کے لیے مکمل تیار نہ ہو۔”
پہلے ٹیسٹ میں آرچر کی شمولیت نہ ہونے پر شائقین نے مایوسی کا اظہار کیا تھا، لیکن انگلینڈ کی حکمت عملی واضح ہے۔ ٹیم انتظامیہ کا مقصد آرچر کو کسی ایک میچ کے لیے خطرے میں ڈالنے کے بجائے آئندہ ہونے والی ایشز سیریز کے لیے محفوظ رکھنا ہے۔
میڈیکل ٹیم ہر ٹریننگ سیشن کے بعد آرچر کی بحالی کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ اگر وہ اس ہفتے فٹنس کے حتمی مراحل کامیابی سے عبور کر لیتے ہیں، تو امکان ہے کہ وہ پہلے ٹیسٹ میں کھیلنے والے کسی فاسٹ باؤلر کی جگہ ٹیم کا حصہ بنیں گے۔
نیوزی لینڈ کے بیٹرز، جو حالیہ ہوم کنڈیشنز میں تیز رفتاری کے خلاف مشکلات کا شکار رہے ہیں، اس انتخاب پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آرچر کی موجودگی ایک ایسا خطرہ ہے جو چند اوورز میں میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انگلینڈ کے کپتان اور سلیکٹرز ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں سیریز جیتنے کے لیے فتح درکار ہے، لیکن مستقبل کے بڑے مقابلوں کے لیے آرچر کی فٹنس اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔
آرچر ٹیم میں شامل ہوں یا نہ ہوں، انگلش کیمپ کا پیغام واضح ہے: آرچر اب ٹیم کا حصہ ہیں، اور ان کی ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی اب "اگر” نہیں بلکہ "کب” کا سوال ہے۔
