سپریم کورٹ آف انڈیا نے تیزاب گردی کے واقعات کو قتل سے بھی زیادہ گھناؤنا جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل متاثرہ شخص کو زندگی بھر کے لیے ایسی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے جس کا مداوا ممکن نہیں۔
جسٹس بی وی ناگرتھنا کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے متاثرین کے معاوضے سے متعلق ایک کیس کی سماعت کے دوران یہ تلخ مشاہدہ پیش کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ قتل تو انسان کی زندگی کا خاتمہ ہے، لیکن ایسڈ اٹیک متاثرہ فرد کو ہر روز ایک "سست موت” مرنے پر مجبور کرتا ہے، جہاں سماجی بائیکاٹ، چہرے کی مسخ شدہ حالت اور بار بار ہونے والی تکلیف دہ سرجریوں کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔
عدالت نے محض اخلاقی مذمت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مرکزی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ "نیشنل ری ہیبلیٹیشن فنڈ” قائم کرے۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں متاثرین کے لیے معاوضے اور مدد کے یکساں معیارات کا تعین کرنا ہے۔ فی الحال، مختلف ریاستوں میں معاوضے کی رقوم میں زمین آسمان کا فرق ہے، جس کے باعث متاثرین سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں جبکہ انہیں اپنی سرجریوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی بھاری رقوم درکار ہوتی ہیں۔
عدالتی بینچ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ "ایسا کرنے والے کا مقصد محض جان لینا نہیں ہوتا، بلکہ وہ متاثرہ شخص کی شناخت اور وقار کو ہمیشہ کے لیے مٹا دینا چاہتا ہے۔”
یہ فیصلہ موجودہ قانونی اور سماجی ڈھانچے کے ان خلاؤں کو نمایاں کرتا ہے جو مجرموں کو بچانے کا باعث بنتے ہیں۔ سن 2013 کی قانونی ترامیم کے باوجود، جن میں تیزاب گردی کو تعزیراتِ ہند کے تحت ایک الگ اور سنگین جرم قرار دیا گیا تھا، سزا کی شرح اب بھی انتہائی کم ہے۔ استغاثہ کو اکثر گواہوں پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ متاثرین کے پاس طویل قانونی جنگ لڑنے کے لیے مالی وسائل کا فقدان ہوتا ہے۔
ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ موجودہ معاوضہ اسکیمیں ناکافی ہیں۔ ایک ری کنسٹرکٹو سرجری پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، اور زیادہ تر متاثرین کو ایسی درجنوں سرجریوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ مجوزہ نیشنل ری ہیبلیٹیشن فنڈ کا مقصد ریاستی سطح کی تاخیر کو ختم کرنا ہے تاکہ متاثرین کو فوری طبی امداد، نفسیاتی کونسلنگ اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
عدالت نے وزارت داخلہ کو چھ ہفتوں کے اندر فنڈ کے قیام اور اس پر عملدرآمد سے متعلق اسٹیٹس رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
تیزاب گردی سے بچ جانے والی ہزاروں خواتین کے لیے، عدالت کی جانب سے ان کی اذیت کو "زندہ درگور” قرار دینا، ان کے دکھوں کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنے کی ایک نایاب کوشش ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت انتظامی سستی کو بالائے طاق رکھ کر ایک فعال اور قومی سطح کا حفاظتی نیٹ ورک قائم کر پاتی ہے یا نہیں۔
