پاکستان کی مقامی بلین مارکیٹ میں آج 23 اپریل 2026 کو چاندی کی قیمتوں میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مقامی جیولرز نے اپنے نرخوں کو مستحکم رکھا ہے۔
کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے تجارتی مراکز میں 24 قیراط چاندی کا ایک تولہ بھاؤ 3,150 روپے پر برقرار ہے۔ اسی طرح 10 گرام چاندی کی قیمت 2,700 روپے ریکارڈ کی گئی۔ مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں فی الحال محتاط رویہ اپنایا جا رہا ہے اور قیمتوں میں جارحانہ ردوبدل سے گریز کیا جا رہا ہے۔
مقامی مارکیٹ اس وقت دو متضاد عوامل کے درمیان گھری ہوئی ہے۔ ایک طرف عالمی منڈی میں ڈالر کی قدر میں اضافے کے باعث چاندی کی قیمتوں میں معمولی کمی ہوئی ہے، تو دوسری طرف پاکستانی روپے کی گرتی ہوئی قدر نے مقامی سطح پر قیمتوں کو نیچے آنے سے روک رکھا ہے۔ جب بھی مقامی کرنسی کمزور ہوتی ہے، قیمتی دھاتوں کی درآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس سے عالمی منڈی کی مندی کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔
کراچی کے ایک سینئر بلین ڈیلر نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "چاندی کی مانگ سست ہے۔ سرمایہ کار فی الحال سونے کو محفوظ اثاثہ سمجھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے چاندی کی نقل و حرکت کا انحصار اب مکمل طور پر صنعتی طلب پر ہے۔”
پاکستان میں چاندی کی قیمت کا تعین کرنے میں صنعتی استعمال سب سے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سونے کے برعکس، جس کا تعلق شادی بیاہ اور سرمایہ کاری سے زیادہ ہے، چاندی کا استعمال الیکٹرانکس اور طبی آلات کی مینوفیکچرنگ میں ہوتا ہے۔ مینوفیکچررز درآمدی بل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں؛ اگر درآمدی پابندیوں میں مزید سختی کی گئی تو عالمی رجحانات سے قطع نظر مقامی سطح پر سپلائی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
پرچون صارفین کے لیے یہ استحکام ایک خوش آئند خبر ہے۔ کئی ماہ کے ہنگامہ خیز اتار چڑھاؤ کے بعد موجودہ قیمتوں کا تسلسل جیولری اور چھوٹی سطح کی سرمایہ کاری کے لیے منصوبہ بندی کو آسان بنا رہا ہے۔ تاہم، ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ استحکام عارضی ہو سکتا ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے آئندہ مالیاتی پالیسی کے اعلانات اور شرح سود میں تبدیلی مقامی نرخوں کو فوری طور پر متاثر کر سکتی ہے۔
آج صبح تک ملک کی بڑی مارکیٹوں میں چاندی کا اسٹاک طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ ہفتے کے آخر تک ان قیمتوں کا برقرار رہنا مکمل طور پر بین بینک کرنسی ایکسچینج ریٹ کی کارکردگی پر منحصر ہے۔ اگر روپے کی قدر میں مزید گراوٹ آتی ہے تو مقامی سطح پر چاندی کے نرخوں میں اضافہ ناگزیر ہوگا۔
