نسیم شاہ فیلڈنگ کے دوران گھٹنے کی تکلیف کے باعث میدان سے باہر چلے گئے۔ یہ واقعہ کھیل کے دوران پیش آیا جب ایک روٹین فیلڈ کے دوران ان کا گھٹنا مڑ گیا، جس کے بعد نوجوان فاسٹ باؤلر کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ڈریسنگ روم جانا پڑا۔
باؤنڈری لائن پر ٹیم کے میڈیکل اسٹاف نے ان کا معائنہ کیا، جس کے بعد وہ اپنے دائیں پاؤں پر وزن ڈالنے میں دشواری محسوس کرتے ہوئے گراؤنڈ سے باہر نکلے۔ پاکستان کا پیس اٹیک، جو پہلے ہی مصروف انٹرنیشنل شیڈول کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے، نسیم شاہ کی انجری سے مزید مشکلات میں گھر سکتا ہے۔
ٹیم مینجمنٹ نے ابھی تک انجری کی نوعیت کے بارے میں کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ امکان ہے کہ اسکین کے بعد ہی واضح ہوگا کہ یہ معمولی کھنچاؤ ہے یا کوئی سنجیدہ مسئلہ جو انہیں سیریز کے بقیہ میچوں سے باہر کر سکتا ہے۔
نسیم شاہ حالیہ عرصے میں پاکستانی باؤلنگ لائن اپ کا اہم ترین حصہ رہے ہیں۔ ان کی تیز رفتاری اور اہم موقع پر وکٹیں لینے کی صلاحیت نے انہیں ٹیم کا کلیدی باؤلر بنایا ہے۔ ان کے میدان سے باہر جانے کے بعد کپتان کو باؤلنگ روٹیشن میں ردوبدل کرنا پڑا، جس سے ٹیم کی حکمت عملی متاثر ہوئی۔
گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران پاکستانی فاسٹ باؤلرز کی انجریز ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہیں۔ تینوں فارمیٹس میں ایک ہی گروپ پر انحصار کرنے کے باعث ماہرین بار بار روٹیشن پالیسی کی کمی پر تنقید کر رہے ہیں۔
فی الحال فزیوتھراپسٹ سوجن کی نگرانی کر رہے ہیں، لیکن اصل تشویش آئندہ میچوں کو لے کر ہے۔ اگر انجری سنجیدہ ہوئی تو سلیکٹرز کو مجبوری میں بینچ کی طرف دیکھنا پڑے گا، جہاں تجربہ کار باؤلرز کی کمی ٹیم کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
ڈریسنگ روم میں اس وقت خاموشی ہے۔ نسیم شاہ میچ کے باقی حصے میں واپس آ سکیں گے یا نہیں، اس کا فیصلہ اگلے چند گھنٹوں کی مانیٹرنگ کے بعد کیا جائے گا۔
