تیخوانا، میکسیکو — ایران کی قومی فٹ بال ٹیم اتوار کے روز میکسیکو پہنچ گئی، جہاں کڑے حفاظتی انتظامات اور شدید سفری و سیاسی تنازعات کے باوجود مداحوں کے ایک چھوٹے گروپ نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ ایرانی ٹیم، جسے ‘ٹیم ملی’ بھی کہا جاتا ہے، صبح 5 بجے میکسیکو کے سرحدی شہر تیخوانا کے ہوائی اڈے پر اتری۔ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر مقیم ایرانیوں اور کیلیفورنیا سے آنے والے مداحوں نے علی الصبح ہوائی اڈے پہنچ کر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ تاہم، اس تاریخی ورلڈ کپ میں ٹیم کی آمد پر کھیل سے زیادہ سیاست اور سفارتی تناؤ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔
اگرچہ ایرانی کھلاڑیوں کو لاس اینجلس اور سیئٹل میں اپنے گروپ مرحلے کے میچ کھیلنے کے لیے امریکی ویزے جاری کر دیے گئے ہیں، لیکن ٹیم کے ساتھ آنے والے مینیجمنٹ وفد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ واشنگٹن انتظامیہ نے ایرانی وفد کے تقریباً 15 اعلیٰ عہدیداروں کو ویزے دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ان میں ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج بھی شامل ہیں، جنہیں ماضی میں پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) میں خدمات انجام دینے کی وجہ سے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ واشنگٹن اس فورس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔
امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ مہمانی میں ہونے والا یہ ورلڈ کپ ایرانی ٹیم کے لیے انتہائی غیر معمولی حالات میں ہو رہا ہے۔ فروری کے آخر میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان شروع ہونے والی فوجی کشیدگی اور حملوں کے بعد سے ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت پر مسلسل غیریقینی کے بادل چھائے رہے تھے۔ یہ ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کوئی ملک ایک ایسے میزبان ملک کے خلاف کھیل رہا ہے جس کے ساتھ وہ جنگی حالت میں ہے۔ فی فی کے اصرار پر ایران کو کھیلنے کی اجازت تو مل گئی، لیکن بڑھتے ہوئے تناؤ کے باعث ایرانی فیڈریشن نے دو ہفتے قبل اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرتے ہوئے امریکی ریاست ایریزونا کے شہر ٹوسان میں اپنا تربیتی کیمپ منسوخ کر دیا اور اس کے بجائے میکسیکو کے شہر تیخوانا میں قیام کا فیصلہ کیا۔
ایرانی ٹیم میکسیکو کی فوج اور بھاری ہتھیاروں سے لیس پولیس کے انتہائی سخت حصار میں تیخوانا کے ‘ایسٹادیو کیلینٹے’ اسٹیڈیم میں اپنی مشقیں کرے گی۔ کڑے حفاظتی انتظامات کا مقصد کھلاڑیوں کو کسی بھی قسم کے سیاسی احتجاج یا حملے سے محفوظ رکھنا ہے، کیونکہ جنوبی کیلیفورنیا اور لاس اینجلس میں مقیم ایرانی تارکینِ وطن کی ایک بڑی تعداد موجودہ ایرانی حکومت کی شدید مخالف ہے۔ فیلڈ کے اندر، ایران کا مقابلہ گروپ مرحلے میں نیوزی لینڈ، بیلجیم اور مصر سے ہوگا، جہاں وہ اپنی تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ کے اگلے مرحلے (ناک آؤٹ راؤنڈ) میں پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
