اسلام آباد — پاسپورٹ اور امیگریشن کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے ایک نجی بینک کے اشتراک سے پاسپورٹ فیس کی ادائیگی کے لیے جدید ترین ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں پیر کے روز نجی بینک کے ایک وفد نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) امیگریشن اینڈ پاسپورٹ محمد علی رندھاوا سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاسپورٹ اور امیگریشن فیسوں کی وصولی کے لیے کیش لیس (بلا نقد) ادائیگی کا ماڈل نافذ کرنے پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اس نئے نظام کے فعال ہونے کے بعد شہری اب کسی بھی بینک برانچ میں جائے بغیر، براہِ راست موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے اپنے پاسپورٹ کی فیس گھر بیٹھے جمع کرا سکیں گے۔ نجی بینک نے اس ڈیجیٹل نظام کے بنیادی ڈھانچے پر کام شروع کر دیا ہے۔
اس موقع پر ڈی جی محمد علی رندھاوا کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے شہریوں کو پاسپورٹ کے حصول میں آسانی ہوگی اور یہ عمل تیز رفتار ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ شفاف بھی ہو جائے گا۔ دونوں فریقین نے اس ڈیجیٹل سروس کے حتمی طریقہ کار پر اتفاق کیا، جو کہ پاکستان کو کیش لیس معیشت بنانے کے حکومتی وژن کا حصہ ہے۔
دوسری جانب، حکام نے اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 (G-10) میں واقع ریجنل پاسپورٹ آفس آنے والے شہریوں کے لیے ایک اہم انتباہی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ الرٹ کے مطابق، ایک جاعل شخص نے گوگل میپس (Google Maps) پر جی 10 پاسپورٹ آفس کے آفیشل ایڈریس کی لوکیشن پر اپنا ذاتی موبائل نمبر اور ای میل ایڈریس درج کر رکھا ہے۔ یہ دھوکے باز شخص پاسپورٹ بنوانے کے خواہش مند شہریوں کو گمراہ کر کے جیز کیش (JazzCash) اور دیگر بینک اکاؤنٹس کے ذریعے فیسوں کی غیر قانونی وصولی کر رہا ہے۔
حکام نے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر موجود ایسے نامعلوم نمبروں پر رابطہ کرنے سے گریز کریں اور کسی بھی شخص کو اپنی ذاتی معلومات یا رقم فراہم نہ کریں۔ پاسپورٹ کی فیس صرف منظور شدہ سرکاری ذرائع سے ہی جمع کروائی جائے اور تمام رہنمائی صرف آفیشل چینلز سے حاصل کی جائے۔
