اسلام آباد: بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دفاع، توانائی اور بحری سلامتی کے شعبوں میں بڑھتا ہوا تعاون پاکستان میں تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اسلام آباد کے نزدیک یہ پیش رفت خلیجی خطے میں پاکستان کی روایتی سفارتی، معاشی اور جغرافیائی گنجائش کو محدود کر سکتی ہے۔
یہ تشویش اس وقت زیادہ نمایاں ہوئی جب بھارت اور یو اے ای نے دفاعی تعاون، فوجی تربیت، توانائی ذخیرہ کرنے، ایل این جی، ایل پی جی اور بحری سلامتی سے متعلق تعلقات کو مزید آگے بڑھایا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ یو اے ای کے دوران دونوں ممالک نے دفاعی شراکت داری کے فریم ورک اور توانائی کے شعبے میں کئی معاہدوں کو آگے بڑھایا، جن میں ابوظبی کی سرکاری کمپنی ADNOC کی جانب سے بھارت میں خام تیل کے ذخائر بڑھانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ محض بھارت اور یو اے ای کے دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں۔ خلیجی خطہ برسوں سے پاکستان کی خارجہ پالیسی، معاشی استحکام اور سیکیورٹی حکمت عملی کا اہم ستون رہا ہے۔ لاکھوں پاکستانی کارکن سعودی عرب، یو اے ای اور دیگر خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں۔ انہی ممالک سے آنے والی ترسیلات زر پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کے لیے زندگی کی لکیر سمجھی جاتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں بھارت کی بڑھتی ہوئی خلیجی موجودگی کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔
ایک پاکستانی سفارتی ذریعے کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بھارت یو اے ای کے قریب ہو رہا ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ خلیجی ریاستیں اب اپنے معاشی اور دفاعی شراکت داروں کا دائرہ وسیع کر رہی ہیں۔ ذریعے نے کہا کہ پاکستان کو اپنے خلیجی تعلقات کو صرف جذباتی یا تاریخی بنیادوں پر نہیں، بلکہ عملی معاشی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر مضبوط بنانا ہوگا۔
بھارت اور یو اے ای کے درمیان دفاعی تعاون تیزی سے ادارہ جاتی شکل اختیار کر رہا ہے۔ دونوں ممالک مشترکہ دفاعی کمیٹی کے ذریعے عسکری روابط کو آگے بڑھا رہے ہیں، جبکہ حالیہ برسوں میں مشترکہ فوجی مشقیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ بھارتی اور اماراتی افواج نے ’’ڈیزرٹ سائیکلون‘‘ کے نام سے مشترکہ مشقیں کیں، جن کا مقصد زمینی افواج کے درمیان ہم آہنگی، آپریشنل تعاون اور پیشہ ورانہ روابط کو بہتر بنانا بتایا گیا۔
دوسری جانب توانائی کا شعبہ بھی اس شراکت داری کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ یو اے ای کی ADNOC کمپنی بھارت میں خام تیل، ایل این جی اور ایل پی جی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارت میں اماراتی خام تیل کے ذخائر کو نمایاں حد تک بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ یہ پیش رفت بھارت کو توانائی سلامتی کے شعبے میں خلیجی ممالک کے ساتھ مزید گہرائی سے جوڑ رہی ہے۔
پاکستان کے لیے یہی نکتہ حساس ہے۔
خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تاریخی طور پر گہرے رہے ہیں۔ پاکستانی محنت کشوں نے یو اے ای اور دیگر خلیجی ریاستوں کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ دفاعی تعاون، عسکری تربیت، مذہبی قربت اور عوامی سطح کے روابط بھی اسلام آباد کے حق میں مضبوط عوامل رہے ہیں۔ مگر آج اثر و رسوخ صرف تاریخ یا جذبات سے نہیں بنتا۔ اب خلیجی ممالک ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت، دفاعی صنعت، بندرگاہوں، لاجسٹکس اور فوڈ سیکیورٹی جیسے شعبوں میں شراکت دار تلاش کر رہے ہیں۔
بھارت نے خود کو اسی نئے خلیجی ایجنڈے کے مطابق پیش کیا ہے۔
بھارت کی بڑی منڈی، توانائی کی مسلسل طلب، بڑھتی ہوئی دفاعی صنعت اور بحر ہند میں اس کا فعال کردار یو اے ای جیسے ملک کے لیے پرکشش ہیں۔ ابوظبی کے لیے بھارت صرف تیل خریدنے والا ملک نہیں رہا، بلکہ سرمایہ کاری، تجارت، دفاعی پیداوار اور علاقائی رابطوں کا بڑا شراکت دار بنتا جا رہا ہے۔
پاکستانی پالیسی حلقوں میں خدشہ ہے کہ اگر بھارت اور یو اے ای کے درمیان بحری تعاون مزید بڑھتا ہے تو اس کے اثرات بحیرہ عرب اور بحر ہند کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ یو اے ای خلیج اور بحر ہند کے اہم سمندری راستوں کے قریب واقع ہے۔ ایسے میں بھارت کی امارات کے ساتھ بحری قربت اسلام آباد کے لیے سفارتی اور سیکیورٹی دونوں حوالوں سے قابل توجہ ہے۔
اس کے باوجود پاکستان کے پاس مواقع ختم نہیں ہوئے۔
پاکستان اب بھی خلیجی ممالک کے لیے اہم سیکیورٹی پارٹنر ہے۔ اس کے پاس تربیت یافتہ فوجی افرادی قوت، وسیع تارکین وطن نیٹ ورک، مذہبی و ثقافتی قربت اور جغرافیائی اہمیت موجود ہے۔ خلیجی دارالحکومت بھی جانتے ہیں کہ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، ایران اور بحیرہ عرب کے سنگم پر واقع ایک اہم ملک ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پرانی اہمیت کو نئی شکل دینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کو خلیجی ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو صرف ترسیلات زر، ہنگامی مالی امداد یا تیل کی ادائیگیوں میں سہولت تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ اسلام آباد کو سرمایہ کاری کے قابل منصوبے، ہنرمند افرادی قوت، آئی ٹی سروسز، زراعت، معدنیات، بندرگاہی رابطے اور صنعتی تعاون جیسے شعبوں میں ٹھوس پیشکش لے کر خلیج کے سامنے آنا ہوگا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے بار بار پیدا ہونے والے معاشی بحران اس کی سفارتی گنجائش کو کمزور کرتے ہیں۔ جب کوئی ملک مسلسل مالی مدد، قرض رول اوور یا ہنگامی ذخائر کا خواہش مند رہے تو اس کی بات چیت کی طاقت محدود ہو جاتی ہے۔ بھارت اس کے برعکس خلیجی ممالک کے سامنے بڑی منڈی، سرمایہ کاری کے مواقع اور طویل مدتی اقتصادی منصوبوں کے ساتھ آتا ہے۔
یہ فرق پاکستان کے لیے آسان نہیں، مگر اسے نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔
یو اے ای بظاہر کسی ایک ملک کو دوسرے پر ترجیح دینے کی پالیسی نہیں اپنا رہا۔ ابوظبی پاکستان سے تعلقات ختم نہیں کر رہا، نہ ہی بھارت کے ساتھ قربت کو لازمی طور پر پاکستان مخالف اقدام سمجھا جا سکتا ہے۔ یو اے ای اپنی معیشت کو متنوع بنانے، دفاعی صلاحیت بڑھانے اور عالمی شراکت داریوں کو وسعت دینے کی پالیسی پر چل رہا ہے۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ اس بدلتی ہوئی حقیقت کو سمجھے۔
خلیج اب کسی ایک ملک کا یقینی اثر و رسوخ والا خطہ نہیں رہا۔ یہاں تعلقات سرمایہ کاری، تجارت، ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت، توانائی سلامتی اور قابل عمل منصوبوں کی بنیاد پر طے ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے پاس اب بھی goodwill موجود ہے، مگر صرف خیر سگالی کافی نہیں۔
بھارت اور یو اے ای کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری اسلام آباد کے لیے ایک واضح پیغام ہے: خلیج میں جگہ برقرار رکھنی ہے تو پاکستان کو اپنی پالیسی تیز، عملی اور معاشی طور پر زیادہ قابل اعتماد بنانا ہوگی۔
