کراچی: پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز کے منافع میں اضافے کی یقین دہانی کے بعد 15 اگست سے شروع ہونے والی ملک گیر ہڑتال مؤخر کردی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے بتایا کہ پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے ان سے تقریباً آدھے گھنٹے تک ٹیلی فون پر گفتگو کی اور ڈیلرز کے منافع میں اضافے کی یقین دہانی کرائی۔
ان کے مطابق پٹرولیم وزیر نے وزیراعظم سے خصوصی منظوری حاصل کرنے کے بعد فی لیٹر ایک روپے 34 پیسے منافع بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔
ملک خدا بخش نے بتایا کہ پٹرولیم وزیر کی مداخلت کے بعد جمعرات کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بھی بلایا گیا تھا، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے کوٹہ سسٹم ختم کرنے کے مطالبے پر غور کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈیلرز کے دو اہم مطالبات تسلیم کرلیے ہیں اور ایسوسی ایشن پٹرولیم کے شعبے کے لیے مزید سہولیات کے حصول کی کوشش جاری رکھے گی۔
ملک خدا بخش کے مطابق حکومت نے ریاست کے ساتھ مسلسل تعاون کرنے پر پٹرولیم ڈیلرز کو سراہا بھی ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمت مقرر کرنے کے نظام کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی تجویز تین مراحل میں نافذ کی جائے گی اور اس عمل میں تقریباً دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے روزانہ قیمت طے کرنے کے بجائے قیمت برقرار رکھنے کی کم از کم مدت مقرر کرنے کے مطالبے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ ڈیلرز نے ایک ماہ کے لیے قیمت مقرر کرنے کی تجویز دی تھی جبکہ حکومت سات روز کے لیے قیمت مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین طارق حسن نے کہا کہ ڈیلرز کو گزشتہ چار سال سے مہنگائی سے منسلک ایک روپے 34 پیسے فی لیٹر ایڈجسٹمنٹ نہیں ملی، جس سے ان کے مطابق تقریباً 5 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈیلرز کا منافع 8.84 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 10 روپے فی لیٹر کیا جائے گا۔ حکومتی یقین دہانی کے بعد ایسوسی ایشن نے 15 اگست سے شروع ہونے والی ملک گیر ہڑتال مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ فیصلہ ایک روز بعد سامنے آیا جب پٹرولیم ڈیلرز نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد غیر معینہ مدت کی ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے کہا ہے کہ وفاقی اور سندھ حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال جاری رہے گی۔
ان کے مطابق مطالبات منظور ہونے اور باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہونے تک ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں جاری احتجاج چھٹے روز میں داخل ہوچکا ہے۔
ملک شہزاد اعوان نے حکومتی یقین دہانیوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ٹرانسپورٹرز سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں اور کہیں بھی سڑکیں بلاک نہ کریں۔
