شنگھائی میں منعقدہ موبائل ورلڈ کانگریس میں اس بار کیمرے کے میگا پکسلز یا اسکرین کی ریفریش ریٹس کے بجائے ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے: مقامی سطح پر کام کرنے والی مصنوعی ذہانت ۔ چینی اسمارٹ فون ساز کمپنیاں اب اپنے ڈیوائسز کو کلاؤڈ پر انحصار کرنے کے بجائے براہ راست فون کے اندر موجود پروسیسرز سے طاقتور بنانے کی دوڑ میں ہیں۔
ژیومی، آنر اور ویوو جیسے بڑے ناموں نے ایسے فونز پیش کیے ہیں جو انٹرنیٹ کے بغیر بھی پیچیدہ سوالات کے جوابات دینے اور ڈیٹا پروسیس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے لیے اسنیپ ڈریگن 8 جنریشن 3 اور ڈائمنسٹی 9300+ جیسے طاقتور چپس کا استعمال کیا جا رہا ہے، جو فون کو ایک خود مختار ڈیجیٹل اسسٹنٹ بنا دیتے ہیں۔
عام صارف کے لیے اس کا مطلب سہولت ہے۔ مثال کے طور پر، آنر کا نیا فلیگ شپ فون صارف کی ضرورت کو پہلے سے بھانپ لیتا ہے۔ اگر آپ کو کسی میسج میں کوئی پتہ موصول ہوتا ہے، تو فون خود بخود اسے نیویگیشن ایپ میں منتقل کرنے کی تجویز دے دیتا ہے۔ اسی طرح ویوو کے فونز اب انٹرنیٹ بند ہونے کے باوجود طویل دستاویزات کا خلاصہ تیار کرنے یا تصاویر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ حکمت عملی ایک بڑی تبدیلی کی جانب اشارہ ہے۔ کلاؤڈ بیسڈ AI نہ صرف مہنگا ہے بلکہ اس میں رسپانس ٹائم کا بھی مسئلہ رہتا ہے۔ فون کے اندر موجود سلیکون کو استعمال کر کے کمپنیاں نہ صرف پرائیویسی کے تحفظ کا دعویٰ کر رہی ہیں بلکہ پروسیسنگ کی رفتار کو بھی کئی گنا بڑھا رہی ہیں۔
ایک معروف چینی کمپنی کے لیڈ انجینئر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم محض نئے فیچرز نہیں دے رہے، ہم ہارڈ ویئر اور صارف کی سوچ کے درمیان تعلق کو بدل رہے ہیں۔ کلاؤڈ اب انجن نہیں، صرف بیک اپ ہے۔”
تاہم، اس ٹیکنالوجی کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی جڑے ہیں۔ 9 ملی میٹر سے بھی پتلے فون کے اندر جب کا ہیوی سافٹ ویئر چلتا ہے، تو ہارڈ ویئر کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھتا ہے۔ شنگھائی میں مظاہرے کے دوران دیکھا گیا کہ چند منٹ کی بھاری پروسیسنگ کے بعد فونز کافی گرم ہو گئے۔ اس کے علاوہ، بیٹری کی کھپت اب بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کیونکہ نیورل پروسیسنگ یونٹ کا مسلسل استعمال بیٹری کو عام گیمنگ یا ویڈیو سٹریمنگ سے زیادہ تیزی سے ختم کرتا ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ‘AI فون’ کا لیبل دراصل سست پڑتی اسمارٹ فون مارکیٹ کو دوبارہ متحرک کرنے کی ایک کوشش ہے۔ گزشتہ تین برسوں سے اسمارٹ فونز کی ٹیکنالوجی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی تھی، جس کے باعث صارفین نئے ماڈلز خریدنے میں دلچسپی نہیں لے رہے تھے۔
یہ فیچرز واقعی ایک انقلابی پیش رفت ہیں یا محض سافٹ ویئر کی ایک تہہ؟ اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا۔ فی الحال ہارڈ ویئر تیار ہے، لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ کیا کمپنیاں ان فونز کو ٹھنڈا اور بیٹری کے لحاظ سے پائیدار رکھ پائیں گی یا نہیں۔
