وفاقی حکومت نے آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 6 اگست سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کے حکام نے پیر کی شب دیر گئے اس فیصلے کی تصدیق کی، جس کے بعد قیمتوں میں اضافے سے متعلق جاری قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں۔ پیٹرول 269 روپے 43 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 272 روپے 77 پیسے فی لیٹر کی موجودہ قیمت پر ہی دستیاب رہے گا۔
عام پاکستانی کے لیے یہ فیصلہ ایک عارضی سکون کا باعث ہے۔ مہنگائی پہلے ہی گھرانوں کے بجٹ کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
حکومت کا یہ اقدام عالمی منڈی میں جاری اتار چڑھاؤ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ امریکہ میں معاشی سست روی کے خدشات اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود، حکومت نے مقامی سطح پر قیمتیں نہ بڑھا کر معاشی بوجھ کو مزید بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز نے ہفتے کے اوائل میں ہی خدشات کا اظہار کیا تھا کہ ٹیکسوں میں مزید اضافہ فروخت کو متاثر کر سکتا ہے۔ قیمتوں کو برقرار رکھ کر حکومت نے ریونیو کے اہداف اور صارفین پر پڑنے والے بوجھ کے درمیان توازن قائم رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے اعداد و شمار کے مطابق، جولائی کے آخری ہفتے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، جس نے حکومت کو اس پوزیشن میں رکھا کہ وہ قیمتیں بڑھائے بغیر بوجھ برداشت کر سکے۔
اگرچہ فی الحال قیمتیں مستحکم ہیں، لیکن معاشی صورتحال اب بھی نازک ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تبدیلی یا عالمی منڈی میں طلب میں اچانک اضافہ اگست کے وسط میں ہونے والے اگلے جائزے کے دوران قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ فی الحال، موٹرسائیکل اور گاڑی مالکان کو وہی قیمت ادا کرنی ہوگی جو گزشتہ روز تھی۔
