برطانیہ کے پہلے مریخی مشن ’بیگل 2‘ کو ایک منفرد انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ اس مشن کی یاد میں ملک بھر میں 13 یادگاری تختیاں نصب کی گئی ہیں، جو ان ٹیموں کی محنت اور سائنسی عزم کی عکاس ہیں جنہوں نے 2003 کے اس تاریخی مگر ناکام مشن پر کام کیا تھا۔
ایک دہائی سے زائد عرصے تک اس لینڈر کا انجام خلائی تحقیق کے سب سے بڑے معمہوں میں سے ایک رہا۔ 25 دسمبر 2003 کو کرسمس کے دن مریخ پر اترنے کے لیے تیار یہ خلائی جہاز اچانک غائب ہو گیا تھا۔ بالآخر 2015 میں ناسا کے ‘مارس ریکونیسینس آربیٹر’ کی ہائی ریزولوشن تصاویر سے پتا چلا کہ بیگل 2 مریخ کی سطح پر موجود ہے، مگر اس کے سولر پینلز مکمل طور پر نہ کھل سکے۔
یہ تختیاں مشن کی آمد کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر نصب کی گئی ہیں۔ ان کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ گہری خلا میں ناکامی کا مطلب کامیابی کی کوششوں کا رائیگاں جانا نہیں ہوتا۔ ہر تختی ان اداروں کی خدمات کو اجاگر کرتی ہے جنہوں نے اس مشن کے لیے چھوٹی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کے لیے اپنی حدود سے باہر جا کر کام کیا۔
اس پروجیکٹ کے روحِ رواں پروفیسر کولن پلنگر تھے، جن کا انتقال لینڈر کے ملنے سے ایک سال قبل ہو گیا تھا۔ ان کا خواب یہ ثابت کرنا تھا کہ کم بجٹ کے چھوٹے مشنز بھی اعلیٰ درجے کی سائنسی معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ اگرچہ بیگل 2 وہ ڈیٹا نہ بھیج سکا جس کی توقع تھی، مگر اس نے برطانیہ کے لیے بین الاقوامی خلائی مشنز میں ایک کلیدی کردار کی راہ ہموار کی۔
کیمموریشن پروجیکٹ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے، "بیگل 2 ایک علمبردار تھا۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ آپ انتہائی محدود وسائل میں بھی عالمی معیار کا آلہ تیار کر سکتے ہیں۔ یہی جذبہ آج بھی برطانوی خلائی شعبے کا حصہ ہے۔”
یہ تختیاں ان مقامات پر لگائی گئی ہیں جہاں اصل ڈویلپمنٹ ٹیمیں کام کرتی تھیں۔ اس اقدام کا مقصد برطانوی خلائی تحقیق کی تاریخ کو صرف آرکائیوز تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی سطح پر نمایاں رکھنا ہے۔
