سن 2018 سے 2020 کے دوران جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی وبا نے 2,280 جانیں لیں۔ یہ تاریخ کی دوسری سب سے مہلک وبا ثابت ہوئی، مگر اس کی شدت کا اندازہ صرف اعداد و شمار سے نہیں، بلکہ اس ماحول سے لگایا جا سکتا ہے جس میں یہ پھیلی۔ شمالی کیوو اور اتوری کے علاقوں میں وائرس کا مقابلہ کسی کلینک میں نہیں، بلکہ مسلح تصادم کے زد میں آئے ہوئے جنگ زدہ علاقوں میں کیا گیا۔
اس وبا کی سب سے بڑی رکاوٹ طبی نہیں، نفسیاتی تھی۔ مقامی آبادی کے لیے حفاظتی سوٹ میں ملبوس عملہ کسی مسیحا کے بجائے حکومتی جبر کی علامت بن گیا تھا۔ برسوں کی خانہ جنگی نے عوام کا ریاست پر سے اعتبار اٹھا دیا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ اپنے پیاروں کو ہسپتال بھیجنے کے بجائے گھروں میں چھپانے لگے۔ خفیہ تدفین کی رسمیں وائرس کے پھیلاؤ کا اہم ذریعہ بن گئیں، کیونکہ ہر خفیہ تدفین سے انفیکشن کی ایک نئی زنجیر شروع ہوتی تھی۔
ایک مقامی ہیلتھ ورکر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "جب ہم گاؤں پہنچتے، تو لوگ ہمیں طبی عملہ نہیں، بلکہ جاسوس سمجھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم ان کے علاقوں میں صرف اس لیے آئے ہیں تاکہ ان کے گھروں کی تلاشی لے سکیں۔”
شمالی کیوو کی جغرافیائی حیثیت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ یہ علاقہ تجارت کا مرکز ہے، جہاں لوگ روزانہ سینکڑوں میل کا سفر کرتے ہیں۔ وائرس نے ان تجارتی راستوں کا فائدہ اٹھایا اور تیزی سے ایک گاؤں سے دوسرے شہر تک پہنچ گیا۔ جب عالمی ادارہ صحت نے اسے عالمی ہنگامی صورتحال قرار دیا، تب تک یہ وائرس پڑوسی ملک یوگنڈا کی سرحدوں تک دستک دے چکا تھا۔
اس بحران کا رخ تب بدلا جب ویکسین کا استعمال شروع ہوا۔ یہ مغربی افریقہ کی وبا کے مقابلے میں ایک بڑا فرق تھا۔ "رنگ ویکسینیشن” کی حکمت عملی کے تحت 3 لاکھ سے زائد افراد کو حفاظتی ٹیکے لگائے گئے۔ طبی ٹیموں کو اکثر بکتر بند گاڑیوں میں سفر کرنا پڑتا تھا تاکہ وہ باغیوں کی گھات سے بچ سکیں۔
جون 2020 میں جب یہ وبا ختم ہوئی، تو دنیا بھر کی توجہ کرونا وائرس پر مرکوز ہو چکی تھی۔ تاہم، کانگو کا یہ تجربہ صحت عامہ کے لیے ایک تلخ سبق چھوڑ گیا ہے۔ یہ ثابت ہو گیا کہ ویکسین چاہے کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو، اگر عوام کا اعتماد شامل نہ ہو تو وہ بے اثر رہتی ہے۔
آج بھی، ان علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ خستہ حال ہے اور سیاسی عدم استحکام برقرار ہے۔ ایبولا کا خاتمہ تو ہو گیا، لیکن جن حالات نے اس وائرس کو پنپنے کا موقع دیا، وہ آج بھی موجود ہیں۔ اگلی وبا کا انحصار اس پر نہیں کہ ہمارے پاس کون سی دوا ہے، بلکہ اس پر ہے کہ ہم معاشرتی خلیج کو کیسے پاٹتے ہیں۔
