اسلام آباد — مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق فضل چوہدری نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی دعوت اب بھی میز پر موجود ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام کے لیے بات چیت کا راستہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی اور حکومتی اتحاد کے درمیان خلیج مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف 8 فروری کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے، تو دوسری طرف حکومت اسے سیاسی افراتفری قرار دے کر مسترد کرتی ہے۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ سیاسی معاملات کا حل سڑکوں پر نہیں بلکہ پارلیمانی اور مذاکراتی عمل میں پوشیدہ ہے۔ تاہم، انہوں نے ان شرائط پر کوئی لچک نہیں دکھائی جن کا مطالبہ پی ٹی آئی کی جانب سے کیا جا رہا ہے، خاص طور پر عمران خان کی رہائی اور مینڈیٹ کی بحالی جیسے معاملات پر حکومت کا موقف بدستور سخت ہے۔
ماضی میں ہونے والی مذاکراتی کوششیں بے نتیجہ رہی ہیں۔ دونوں فریقین ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حکومتی بیان بازی صرف سیاسی دباؤ کو کم کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے، کیونکہ دونوں جانب سے اپنے بنیادی مطالبات سے پیچھے ہٹنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔
ایک جانب حکومت معاشی اصلاحات اور آئی ایم ایف کے پروگرام پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، تو دوسری جانب پی ٹی آئی اپنی عوامی طاقت کو سیاسی سودے بازی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
طارق فضل چوہدری کی یہ پیشکش سیاسی ماحول میں ایک بار پھر بحث کا موضوع ضرور بنی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک دونوں فریقین ایک دوسرے کے بنیادی تحفظات پر سنجیدہ پیش رفت نہیں کرتے، یہ دعوت محض ایک رسمی بیان سے زیادہ کچھ نہیں۔ سیاسی ڈیڈ لاک کے خاتمے کا انحصار اب اس بات پر ہے کہ کیا دونوں جماعتیں اپنے سخت موقف میں کوئی درمیانی راہ نکالنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔
