نذیر فریدی، جو کئی دہائیوں تک روایتی قوالی اور صوفیانہ عقیدت کی آواز سمجھے جاتے تھے، منگل کے روز کراچی میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 65 سال تھی۔
ان کے اہل خانہ نے ان کے انتقال کی تصدیق کی، جس کے ساتھ ہی 40 سال سے زائد عرصے پر محیط ایک فنی سفر کا اختتام ہوا۔ فریدی کئی ماہ سے ایک دائمی سانس کی بیماری کے باعث پیچیدگیوں کا شکار تھے، اور گزشتہ دو ہفتوں میں ان کی صحت تیزی سے بگڑ گئی تھی۔
کلاسیکی صوفی کلام پر ان کی مہارت اور صرف ایک ہارمونیم کے ساتھ سامعین کو سحر میں مبتلا کرنے کی صلاحیت کے باعث وہ پاکستان کے موسیقی کے منظرنامے میں ایک خاموش مگر نہایت اہم مقام رکھتے تھے۔ اگرچہ انہوں نے جدید دور کی ٹیلیویژن پر مشہور “پاپ قوالی” اور شو بز قسم کی شہرت سے دوری اختیار کی، لیکن ان کے چاہنے والوں کی تعداد ہمیشہ وفادار رہی۔ وہ سندھ اور پنجاب کے بڑے مزارات پر باقاعدگی سے پرفارم کرتے تھے، جہاں ان کی قوالی تماشے کے بجائے روایتی اور روحانی سکون پر مبنی ہوتی تھی۔
ان کے ہم عصر استاد غلام حسین نے کہا، “انہوں نے صرف کلام نہیں گایا بلکہ اس کے اندر چھپی تکلیف کو جیا۔ آج کے دور کے اسٹیج کے شور شرابے کے باوجود وہ خالص روایت پر قائم رہے۔ ان کے نزدیک مائیکروفون محض ایک ثانوی ذریعہ تھا، اصل چیز آواز اور روح تھی۔”
نذیر فریدی نے 1980 کی دہائی کے آخر میں شہرت حاصل کی، خاص طور پر امیر خسرو کے کلام کی پیشکش اور اپنی مخصوص “فریدی اسٹائل” کے باعث، جس میں سانس کے کنٹرول اور جذباتی ضبط کے ذریعے گہرے اظہار کو ترجیح دی جاتی تھی۔ انہوں نے ہمیشہ قوالی کے روایتی ڈھانچے کو برقرار رکھا اور 2000 کی دہائی میں مقبول ہونے والے تجارتی فیوژن انداز سے دور رہے۔
ان کی صحت کے مسائل موسیقی کی برادری میں پوشیدہ نہیں تھے، اور رواں سال کے آغاز میں ان کے علاج کے اخراجات میں مدد کے لیے ایک چھوٹا فنڈ ریزر بھی منعقد کیا گیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود ان کی حالت بہتر نہ ہو سکی۔
ان کے جانے سے صرف ایک فنکار کا خلا نہیں پیدا ہوا بلکہ صوفی موسیقی کے ایک غیر تجارتی اور خالص انداز کا بھی نقصان ہوا ہے۔ ان کی نمازِ جنازہ بدھ کی دوپہر کراچی میں ادا کی جائے گی، جہاں انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ان کے نجی ادارے میں تربیت پانے والے شاگردوں کے لیے اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا ان کے انداز کی باریکیاں—آواز کے نرم اتار چڑھاؤ اور گہرے گلے سے نکلنے والی ادائیگی—ان کے بعد بھی زندہ رہ سکیں گی یا نہیں۔
