ویانا — آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے معروف ’کنسٹ ہسٹوریشس میوزیم‘ سے کروڑوں مالیت کا تاریخی ہیروں کا ہار چوری ہو گیا۔ چوروں نے انتہائی جدید سیکیورٹی حصار کو توڑ کر شیشے کا ڈسپلے کیس توڑا اور واردات کے تین منٹ کے اندر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
یہ واردات منگل کی صبح 3 بج کر 15 منٹ پر ہوئی۔ میوزیم کے سیکیورٹی الارم نے فوری طور پر کام کرنا شروع کر دیا، لیکن جب تک سیکیورٹی ٹیمیں ہال تک پہنچیں، ملزمان شہر کی قدیم اور تنگ گلیوں میں غائب ہو چکے تھے۔
ویانا پولیس کے ترجمان تھامس سٹینر نے میڈیا کو بتایا کہ "یہ کوئی جذباتی یا ہنگامی کارروائی نہیں تھی۔ چوروں کو معلوم تھا کہ وہ کیا ڈھونڈ رہے ہیں اور سیکیورٹی کیمروں کے بلائنڈ سپاٹ کہاں ہیں۔ یہ ایک پیشہ ورانہ مہارت کا شاہکار ہے۔”
ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ملزمان نے واردات کے دوران سگنل جیمرز کا استعمال کیا، جس سے کئی اہم کیمرے یا تو بند ہو گئے یا انہوں نے پرانی ریکارڈنگ چلانا شروع کر دی۔ جائے وقوعہ سے فی الحال کوئی انگلیوں کے نشان یا ڈی این اے ثبوت نہیں مل سکے۔
چوری ہونے والا ہار 19ویں صدی کا ایک شاہکار ہے، جس میں 40 کیرٹ کے ہیرے سیاہ چاندی میں جڑے ہوئے ہیں۔ یہ ہار کئی دہائیوں سے شاہی زیورات کے مجموعے کی زینت بنا ہوا تھا، جس کی وجہ سے اس کی تاریخی اہمیت اس کی مالی قیمت سے کہیں زیادہ ہے۔
عجائب گھر کی انتظامیہ نے متاثرہ حصے کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا ہے، جبکہ فرانزک ٹیمیں شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔ بیمہ کمپنیوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تاریخی اہمیت کے حامل زیور کو بلیک مارکیٹ میں بیچنا تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ یہ دنیا بھر کے آرٹ ڈیلرز کی نظروں میں رہتا ہے۔
میوزیم کی ڈائریکٹر ایلینا فشر نے پولیس لائن کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم اس نقصان پر شدید صدمے میں ہیں۔ ہماری اولین ترجیح اس ناقابلِ تلافی نوادرات کی بازیابی ہے۔”
فی الحال ویانا کے تمام بڑے ٹرانزٹ ہبز اور سرحدی راستوں پر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ہر مشتبہ نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں، تاہم اب تک چوروں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
