کراچی کے پولیس چیف نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید اختر اوڈھو نے ڈی آئی جی ساؤتھ کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کی مکمل رپورٹ 24 گھنٹے کے اندر پیش کی جائے۔ ویڈیوز میں وردی پوش اہلکاروں کو شہریوں سے الجھتے اور تلخ کلامی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد علاقے میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔
یہ واقعہ شہر میں پولیس اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔ کراچی کے رہائشیوں کے لیے سڑکوں پر پولیس کے ساتھ تلخ تجربات اب کوئی نئی بات نہیں رہی، لیکن پوش علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے نے ایک بار پھر پولیس کی کارکردگی اور احتساب کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
سینٹرل پولیس آفس کے ایک ذمہ دار افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تحقیقات میں ہر پہلو کو دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعین کیا جائے گا کہ آیا اہلکاروں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا یا صورتحال کسی اشتعال انگیزی کا نتیجہ تھی۔
دوسری جانب مقامی رہائشیوں کو اس انکوائری سے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہونے والی ایسی تحقیقات اکثر ٹھنڈے بستے میں چلی جاتی ہیں اور ملوث اہلکاروں کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں ہوتی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں اہلکاروں کو اسلحہ لہراتے اور شہریوں کو دھمکاتے ہوئے دیکھ کر عوام میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
یہ ڈی ایچ اے میں پیش آنے والا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران کراچی کے ساؤتھ زون میں پولیس کے رویے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے کئی شکایات سامنے آ چکی ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ کل شام تک متوقع ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ رپورٹ محض کاغذی کارروائی ثابت ہوتی ہے یا ملوث اہلکاروں کے خلاف کوئی ٹھوس ایکشن لیا جاتا ہے۔ فی الحال متعلقہ اہلکاروں کو ہیڈ کوارٹر رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔
