بھارت پہلے ٹیسٹ کے آخری روز سری لنکا کے خلاف تاریخی فتح کے دہانے پر کھڑا ہے۔ میزبان ٹیم کو جیت کے لیے صرف تین وکٹوں کی ضرورت ہے، جبکہ سری لنکن بلے باز اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
میچ کے پانچویں روز جسپریت بمراہ نے ابتدائی اوورز میں ہی سری لنکن ٹاپ آرڈر کی کمر توڑ دی۔ لنکن بلے بازوں کے لیے وکٹ پر ٹکنا ناممکن ہو گیا ہے، جہاں گیند غیر متوقع طور پر ٹرن ہو رہی ہے۔ روی چندرن ایشون اور رویندرا جڈیجا کی اسپن جوڑی نے مڈل آرڈر کو پویلین کی راہ دکھا کر بھارت کی پوزیشن کو ناقابلِ شکست بنا دیا ہے۔
تیسرے روز ریشبھ پنت کی جارحانہ سنچری نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا تھا۔ بھارتی مڈل آرڈر نے سری لنکن بولرز کو دفاعی حکمت عملی پر مجبور کیا، جس کے بعد بھارت نے 300 سے زائد رنز کی برتری کے ساتھ اننگز ڈکلیئر کی۔ اس پہاڑ جیسے اسکور نے سری لنکا پر نفسیاتی دباؤ بڑھا دیا تھا، جس سے وہ اب تک نہیں نکل سکے۔
سری لنکا کی ٹیم اس وقت 185 رنز پر 7 وکٹیں گنوا چکی ہے۔ مہمان ٹیم کے بلے بازوں کی تکنیک بھارتی اسپنرز کے سامنے بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے، خاص طور پر غیر متوقع باؤنس اور ٹرن نے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ سری لنکن لوئر آرڈر اب صرف میچ کو کچھ دیر تک کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن بھارتی بولنگ اٹیک کے سامنے ان کی مزاحمت بے اثر دکھائی دیتی ہے۔
دونوں ٹیموں کی کارکردگی میں واضح فرق نظر آیا ہے۔ جہاں بھارتی بولرز نے تسلسل کے ساتھ درست لائن اور لینتھ پر گیند بازی کی، وہیں سری لنکن بیٹنگ لائن پارٹنرشپ قائم کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔ اگر بھارت اسی رفتار سے کھیل جاری رکھتا ہے تو میچ آخری سیشن سے قبل ہی ختم ہو جائے گا۔
سری لنکا کے لیے اب یہ ٹیسٹ بچانا ممکن نہیں رہا۔ مہمان ٹیم کی نظریں اب صرف اس بات پر ہیں کہ وہ شکست کے مارجن کو کم سے کم کر سکیں تاکہ اگلے ٹیسٹ سے قبل ٹیم کا مورال مکمل طور پر تباہ نہ ہو۔
