انڈونیشین حکام نے ایک ملائیشین کمرشل پائلٹ کو ایئرپورٹ پر سامان کی تلاشی کے دوران 55 پونڈ (25 کلو گرام) ایکسٹیسی برآمد ہونے پر گرفتار کر لیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق، ایک بڑی علاقائی ایئرلائن سے وابستہ پائلٹ کو پرواز کے لینڈ کرنے کے فوراً بعد حراست میں لیا گیا۔ کسٹمز حکام نے روٹین اسکیننگ کے دوران اس کے بیگ سے منشیات کا بھاری ذخیرہ پکڑا، جس کی مالیت کا تخمینہ لاکھوں ڈالرز میں لگایا گیا ہے۔
یہ گرفتاری ایوی ایشن سیکیورٹی میں ایک بڑی خامی کی نشاندہی کرتی ہے۔ تفتیش کار اب پائلٹ کے فلائٹ لاگز اور سفری ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ کوئی انفرادی کوشش تھی یا کسی منظم اسمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ۔
ایک اعلیٰ کسٹمز افسر نے صحافیوں کو بتایا کہ "ہم اس کے نیٹ ورک کو کھنگال رہے ہیں۔ ایک پائلٹ کو ایئرپورٹ پر مخصوص رسائی حاصل ہوتی ہے، ہمیں یہ جاننا ہے کہ آیا وہ اکیلا کام کر رہا تھا یا کسی بڑے گروہ کا کارندہ ہے۔”
انڈونیشیا کے سخت انسدادِ منشیات قوانین کے تحت اسمگلنگ کے جرم میں عمر قید یا سزائے موت تک ہو سکتی ہے۔ پائلٹ کو فی الحال حراست میں رکھا گیا ہے، جبکہ پولیس ملائیشین حکام کے ساتھ مل کر منشیات کی اس کھیپ کے اصل ذرائع تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
متعلقہ ایئرلائن نے اپنے مختصر بیان میں تحقیقات میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ ایئرلائن نے پائلٹ کو تاحکمِ ثانی معطل کر دیا ہے اور عدالتی کارروائی کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ملزم اب انڈونیشیا کی حراست میں ہے، جہاں منشیات کے مقدمات میں انتہائی سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔
