بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے چار ماہ کی جلاوطنی کے بعد دسمبر میں وطن واپس آنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ اگست میں طلبہ کے پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں اقتدار چھوڑ کر بھارت منتقل ہو گئی تھیں۔
شیخ حسینہ کی واپسی کا عندیہ ان کے بیٹے ساجب واجد جوائے نے ‘وائس آف امریکہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی والدہ موجودہ عبوری حکومت — جس کی سربراہی نوبل انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں — کی مدت مکمل ہونے کے بعد دوبارہ سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کریں گی۔
اس اعلان نے عوامی لیگ کی صفوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پانچ اگست کو اقتدار کے خاتمے کے بعد سے جماعت کو قیادت کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ درجنوں مرکزی رہنما یا تو جیلوں میں ہیں یا پھر گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔
شیخ حسینہ کی ممکنہ واپسی محمد یونس کی عبوری حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ عبوری انتظامیہ کا فوکس فی الحال معاشی استحکام اور انتخابی اصلاحات پر ہے تاکہ ملک میں شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ حسینہ کی واپسی ان اصلاحاتی کوششوں کو پٹری سے اتار سکتی ہے اور ملک میں وہی سیاسی پولرائزیشن دوبارہ جنم لے سکتی ہے جس نے اگست میں ملک کو افراتفری کی طرف دھکیلا تھا۔
عبوری حکومت کے لیے قانونی پیچیدگی بھی کم نہیں۔ ڈھاکہ میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل پہلے ہی ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر چکا ہے۔ ان پر درجنوں مقدمات، بشمول قتل اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد ہیں۔ اب حکومت کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ انہیں قانون کے کٹہرے میں لائے گی یا پھر بھارت کے ساتھ سفارتی کشیدگی مول لے گی۔
عوامی لیگ کے حامیوں کے لیے یہ اعلان ایک امید کی کرن ہے، جو پارٹی کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، جن طلبہ رہنماؤں نے اگست میں حکومت کا تختہ الٹا تھا، وہ حسینہ کی واپسی کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ان کا موقف ہے کہ جس شخص نے ان کے ساتھیوں پر طاقت کا استعمال کیا، اس کے لیے ملک میں کوئی جگہ نہیں۔
ڈھاکہ ہو یا نئی دہلی، شیخ حسینہ کے اس اعلان نے بنگلہ دیش کے سیاسی منظر نامے کا رخ موڑ دیا ہے۔ اب عبوری حکومت کے پاس وقت کم ہے کہ وہ اصلاحات کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنائے اس سے پہلے کہ سابقہ رہنما اپنی واپسی کے ساتھ سیاسی بیانیے کو ایک بار پھر اپنے حق میں بدلنے کی کوشش کریں۔
