وال اسٹریٹ پر منگل کے روز مندی کا رجحان رہا۔ ایران پر نئی پابندیوں کے خدشات اور انویڈیا کی سہ ماہی کارکردگی کے نتائج سے قبل سرمایہ کار محتاط دکھائی دیے۔ ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک انڈیکس میں گراوٹ دیکھی گئی، جس کی بڑی وجہ ٹیکنالوجی اسٹاکس میں فروخت کا دباؤ ہے۔
نیس ڈیک میں 0.8 فیصد جبکہ ایس اینڈ پی 500 میں 0.4 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ رواں سال مارکیٹ کو اوپر لے جانے والے ٹیکنالوجی شیئرز اب سرمایہ کاروں کے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ خدشہ یہ ہے کہ اگر انویڈیا کے نتائج توقعات کے مطابق نہ رہے تو مارکیٹ میں مزید گراوٹ آ سکتی ہے۔
انویڈیا کے نتائج بدھ کو متوقع ہیں۔ کمپنی کے شیئرز رواں سال 150 فیصد سے زائد بڑھ چکے ہیں، جس کے بعد اب ہر نظر اس پر ہے کہ کیا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مانگ برقرار ہے یا نہیں۔ ایک سینئر مارکیٹ اسٹریٹیجسٹ کا کہنا ہے کہ "مارکیٹ نے بہت زیادہ توقعات پال رکھی ہیں۔ اگر انویڈیا کے اعداد و شمار میں معمولی سی بھی کمی آئی تو مارکیٹ کا ردعمل فوری اور شدید ہوگا۔”
جیو پولیٹیکل صورتحال نے بھی سرمایہ کاروں کی پریشانی میں اضافہ کیا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے ایران کے توانائی کے شعبے پر نئی پابندیوں کے اشاروں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو سہارا دیا ہے۔ اگرچہ تیل کی سپلائی میں فوری خلل کا امکان کم ہے، لیکن خطے میں کشیدگی نے فیڈرل ریزرو کے لیے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا چیلنج بڑھا دیا ہے۔
توانائی کی بڑھتی قیمتیں افراطِ زر کو مزید مستحکم کر سکتی ہیں۔ اگر تیل مہنگا ہوتا ہے تو فیڈرل ریزرو کے لیے شرح سود میں کمی کا عمل مشکل ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار اب اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہے ہیں اور محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔
ٹیکنالوجی سیکٹر سے سرمایہ نکال کر یوٹیلیٹیز اور کنزیومر اسٹیپلز جیسے شعبوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کار مارکیٹ سے باہر نہیں نکل رہے، بلکہ زیادہ محفوظ اثاثوں کی تلاش میں ہیں۔
اب تمام تر توجہ بدھ کی شام پر مرکوز ہے۔ ایس اینڈ پی 500 اپنی حالیہ بلندیوں کے قریب ہے، اور مارکیٹ کی اگلی سمت کا دارومدار مکمل طور پر انویڈیا کی کارکردگی پر ہے۔ کیا یہ ٹیکنالوجی ریلی برقرار رہے گی یا اب اسے تھمنے کا وقت آ گیا ہے؟ جواب چند گھنٹوں میں سامنے آ جائے گا۔
