کوئٹہ پولیس نے اسما امان کے اغوا کے معاملے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے چار مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ گرفتاریاں بدھ کی شب شہر کے مختلف علاقوں میں کیے گئے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران عمل میں آئیں۔
پولیس حکام نے گرفتاریوں کی تصدیق تو کی ہے، لیکن فی الحال ملزمان کے نام صیغہ راز میں رکھے گئے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ زیر حراست افراد کا تعلق اس نیٹ ورک سے ہے جس نے اغوا کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں مرکزی کردار ادا کیا۔
یہ واقعہ گزشتہ چند ہفتوں سے کوئٹہ میں شدید بے چینی کا باعث بنا ہوا تھا۔ سوشل میڈیا پر اغوا کی فوٹیج وائرل ہونے کے بعد شہر بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جس میں سول سوسائٹی اور متاثرہ خاندان نے صوبائی حکومت سے فوری بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔
جمعرات کی صبح میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اعلیٰ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ "ہم کئی پہلوؤں پر کام کر رہے ہیں۔ ہماری اولین ترجیح اسما امان کی بحفاظت بازیابی ہے۔ یہ گرفتاریاں اس نیٹ ورک کو توڑنے کی جانب پہلا قدم ہیں۔” انہوں نے تفتیش کے حساس نوعیت کے پیشِ نظر ملزمان کے محرکات کے بارے میں مزید بتانے سے گریز کیا۔
اسما امان کا اغوا کوئٹہ میں بڑھتی ہوئی بدامنی کی ایک اور کڑی ہے۔ شہر کے مکینوں کا کہنا ہے کہ اسٹریٹ کرائم اور اغوا برائے تاوان کے واقعات معمول بن چکے ہیں، جس سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ مقامی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال کنٹرول نہ ہوئی تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے۔
پولیس نے چاروں ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ تفتیش کار اب اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ آیا یہ گروہ کسی بڑے منظم جرائم پیشہ نیٹ ورک سے منسلک ہے یا نہیں۔
متاثرہ خاندان اسما کی بازیابی کے منتظر ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹے تفتیش کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں، جن میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
