دوحہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔ قطر اور مصر کے ثالثوں کی زیرِ نگرانی ہونے والی یہ بات چیت تہران کے علاقائی حلیفوں اور واشنگٹن کی سیکیورٹی ترجیحات کے درمیان خلیج کو پاٹنے کی ایک اہم کوشش ہے۔
آنے والے دنوں میں طے شدہ یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب خطے میں وسیع تر جنگ کا خطرہ برسوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔ امریکی حکام کا وفد دوحہ پہنچ چکا ہے، جس کا بنیادی مقصد ‘ریڈ لائنز’ کا تعین کرنا ہے تاکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست عسکری تصادم کو روکا جا سکے۔
وائٹ ہاؤس کے لیے یہ معاملہ انتہائی حساس ہے۔ صدر بائیڈن کی انتظامیہ اپنی مدت کے آخری مہینوں میں کسی بھی بڑے علاقائی تنازع میں الجھنے سے گریزاں ہے۔ دوسری جانب تہران کو اندرونی معاشی دباؤ اور جوہری تنصیبات پر حملے کے خوف کے پیشِ نظر اپنی طاقت کے مظاہرے اور احتیاط کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔
مذاکرات میں شامل ایک مغربی سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم تعلقات کی بہتری نہیں، بلکہ تصادم کو روکنے کے لیے ایک ‘سرکٹ بریکر’ کی تلاش میں ہیں۔”
فریقین کے درمیان خلیج اب بھی نمایاں ہے۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ علاقائی صورتحال میں بہتری کے لیے غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ امریکی وفد کا اصرار ہے کہ عراق، شام اور بحیرہ احمر میں ایران نواز گروہوں کی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔
قطر ماضی میں بھی قیدیوں کے تبادلے اور انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے ثالثی کا کامیاب کردار ادا کر چکا ہے۔ تاہم اس بار حالات مختلف ہیں۔ ان مذاکرات کی کامیابی کا انحصار کسی بڑے معاہدے پر نہیں، بلکہ اگر یہ ملاقاتیں پراکسی ملیشیاؤں کی جانب سے عارضی جنگ بندی پر بھی منتج ہو جائیں، تو سفارتی حلقے اسے بڑی پیش رفت قرار دیں گے۔
اس بفر کے بغیر، خطہ ایک ایسی جنگ کے دہانے پر ہے جسے سنبھالنا کسی بھی فریق کے بس میں نہیں ہوگا۔ دوحہ میں ہونے والی یہ بات چیت طے کرے گی کہ آیا سفارت کاری کے لیے اب بھی کوئی گنجائش باقی ہے یا نہیں۔
