پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر نے دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اور اچانک تبدیلیوں پر اپنے بھارتی ہم منصب کو چار بار خطوط لکھے ہیں، تاہم انہیں اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ان خطوط میں بھارت سے ان تکنیکی وجوہات پر ڈیٹا مانگا گیا تھا جن کے باعث دریا کی سطح میں اچانک اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔
دریائے چناب پنجاب کے زرعی علاقوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پانی کے بہاؤ میں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے یہ تبدیلیاں نہ صرف آبپاشی کے نظام کو درہم برہم کرتی ہیں بلکہ زیریں علاقوں میں موجود انفراسٹرکچر کے لیے بھی خطرہ بنتی ہیں۔ پانی کی سطح اچانک بڑھنے سے مقامی سطح پر سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے، جبکہ سطح گرنے سے فصلوں کے لیے پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سندھ طاس معاہدہ (1960) دونوں ممالک کو پابند کرتا ہے کہ وہ پانی کے بہاؤ سے متعلق ڈیٹا کا تبادلہ کریں۔ خاص طور پر جب دریا کا بہاؤ موسمی معمولات سے ہٹ جائے، تو شفافیت کو یقینی بنانا دونوں فریقین کی ذمہ داری ہے۔ بھارت کی جانب سے اس مسلسل خاموشی نے ان تکنیکی مواصلاتی راستوں پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں جو پانی کے تنازعات کو سفارتی بحران بننے سے روکنے کے لیے بنائے گئے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیٹا شیئرنگ میں یہ غفلت محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں ہے۔ یہ صورتحال فلڈ فورسنگ ڈویژن کے کام کو بھی متاثر کر رہی ہے، جو بروقت انتباہ جاری کرنے کے لیے بالائی علاقوں سے ملنے والے ڈیٹا پر انحصار کرتا ہے۔ بھارت سے معلومات نہ ملنے کی صورت میں، پاکستانی حکام مون سون کے دوران عملی طور پر اندھیرے میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔
تازہ ترین اعداد و شمار اور دریائی گیجز سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی کے اتار چڑھاؤ کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث صوبائی محکمہ آبپاشی کو بیراجوں کے آپریشنز کو ہنگامی بنیادوں پر ایڈجسٹ کرنا پڑ رہا ہے۔ انڈس کمشنر نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ اس معاملے کو مستقل انڈس کمیشن کے سامنے اٹھائیں گے یا معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے لیے کسی تیسرے فریق سے رجوع کریں گے۔
فی الحال، نئی دہلی کی خاموشی دریائے چناب کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتحال کی بڑی وجہ بنی ہوئی ہے۔ اگلی فصل کی کاشت کا وقت قریب ہے، اور ڈیٹا کے تبادلے میں یہ تعطل نہ صرف کسانوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے بلکہ مقامی حکام کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
