پینٹاگون کے حکام نے حال ہی میں ایران کے مبینہ "مہلک ڈولفنز” سے متعلق غیر معمولی خبروں پر ردِعمل دیا، جس کے بعد عالمی سطح پر توجہ اور بحث شروع ہو گئی۔
ایک پریس بریفنگ کے دوران امریکی دفاعی رہنماؤں سے پوچھا گیا کہ کیا ایران تربیت یافتہ ڈولفنز کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ ان دعوؤں میں کہا گیا تھا کہ یہ ڈولفنز "کامی کازی ڈولفنز” کی طرح کام کر سکتی ہیں جو دھماکہ خیز مواد لے جا سکتی ہیں یا جہازوں پر حملہ کر سکتی ہیں۔ یہ سوال اس وقت اٹھا جب میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ ایران سوویت دور کے ایک پرانے پروگرام کو دوبارہ شروع کر سکتا ہے جس میں سمندری جانوروں کو فوجی مقاصد کے لیے تربیت دی جاتی تھی۔
پینٹاگون کے حکام، جن میں اعلیٰ فوجی افسران بھی شامل تھے، نے ان دعوؤں کو شک کی نگاہ سے دیکھا اور بعض اوقات مزاحیہ انداز میں مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ ایران کے پاس اس وقت ایسی کوئی صلاحیت ہے۔ ایک عہدیدار نے اس دعوے کا موازنہ کسی خیالی کہانی سے کیا، جیسے "لیزر شعاعوں والی شارکس”، تاکہ اس کی غیر حقیقت پسندی کو واضح کیا جا سکے۔
تاہم، یہ بحث مکمل طور پر بے بنیاد بھی نہیں ہے۔ تاریخی طور پر امریکہ اور سابق سوویت یونین دونوں نے ڈولفنز اور سی لائنز کو غیر مہلک فوجی مقاصد کے لیے تربیت دی ہے، جیسے پانی کے اندر بارودی سرنگوں کی نشاندہی، دراندازوں کی شناخت، اور بندرگاہوں کی حفاظت۔ ان جانوروں کی ذہانت اور قدرتی سونار صلاحیتوں کی وجہ سے انہیں اہمیت دی جاتی ہے۔
"مہلک ڈولفنز” پر دوبارہ توجہ دراصل خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اسٹریٹیجک مقام کے حوالے سے۔ ماہرین کے مطابق ایسے غیر معمولی یا روایتی سے ہٹ کر خیالات اکثر جغرافیائی سیاسی تنازعات اور معلوماتی جنگ کے دوران سامنے آتے ہیں۔
