پاکستان تحریکِ انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے پنجاب میں پارٹی کی نئی کوارڈینیشن اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی کے معاملے پر جاری اندرونی بے چینی کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ کمیٹی اپنی موجودہ شکل میں برقرار رہے گی۔ 5 اور 6 مئی کی رپورٹس کے مطابق، انہوں نے کہا کہ نہ کمیٹی سے کسی رکن کو نکالا جائے گا اور نہ ہی اس میں کسی نئے فرد کو شامل کیا جائے گا۔ یہ بیان دراصل پارٹی کے اندر اٹھنے والے اعتراضات کو فوری طور پر روکنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب پی ٹی آئی نے پنجاب کے معاملات کی نگرانی کے لیے پانچ رکنی کمیٹی قائم کی۔ پارٹی کے بعض رہنماؤں نے اس فیصلے پر تحفظات ظاہر کیے، جبکہ خاص طور پر امجد خان نیازی کی بطور کنوینر شمولیت پر سوالات اٹھائے گئے۔ ناقدین کا مؤقف تھا کہ پنجاب جیسے حساس سیاسی صوبے میں ایک اور نگران ڈھانچہ بنانے سے پہلے پارٹی کے اندر اعتماد سازی ضروری تھی۔
سلمان اکرم راجا کے حالیہ بیان سے یہ تاثر ملا ہے کہ مرکزی قیادت اس معاملے پر پسپائی اختیار کرنے کے موڈ میں نہیں۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق، انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ کمیٹی میں رد و بدل نہیں ہوگا، حالانکہ پارٹی کے اندر سے اس کی تشکیل پر اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔ اس مؤقف کا مقصد غالباً یہ ہے کہ تنظیمی فیصلوں کو مسلسل چیلنج کرنے کا سلسلہ روکا جائے اور پنجاب میں ایک واضح کمانڈ اسٹرکچر قائم رکھا جائے۔
اس معاملے کی اہمیت صرف ایک کمیٹی تک محدود نہیں۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کے تنظیمی امور پہلے بھی اختلافات کا شکار رہے ہیں۔ 2025 کے آخر میں بھی پنجاب کی پارٹی قیادت اور تقرریوں کے حوالے سے تنازع سامنے آیا تھا، جب ایک جائزہ کمیٹی نے داخلی اختلافات کے بعد احمد چٹھہ کو دوبارہ سنٹرل پنجاب کا صدر بحال کیا تھا۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو موجودہ تنازع ایک الگ واقعہ نہیں بلکہ پارٹی کے اندر اختیار، نمائندگی اور تنظیمی کنٹرول کی جاری کشمکش کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
پنجاب پی ٹی آئی کے لیے غیرمعمولی سیاسی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے یہاں ہونے والی ہر تنظیمی تقرری محض انتظامی فیصلہ نہیں سمجھی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ سلمان اکرم راجا کا مختصر مگر دوٹوک مؤقف دراصل ایک سیاسی پیغام بھی ہے: پارٹی قیادت چاہتی ہے کہ تنظیمی معاملات پر بار بار عوامی یا اندرونی محاذ آرائی نہ ہو۔ فی الحال دستیاب اطلاعات میں ایسا کوئی اشارہ نہیں کہ کمیٹی پر نظرثانی ہو رہی ہے یا اسے واپس لیا جا رہا ہے۔
