امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز مشرقِ وسطیٰ سے روانگی کے وقت اعلان کیا:
"یہ پچھلے سو سال کا سب سے بڑا دن ہے — عالمی امن کے لیے!”
مگر غزہ کے ملبے میں لوٹتے فلسطینیوں کے لیے امن اب بھی ایک خواب ہے۔
دو سال کی طویل جنگ، بمباری اور محاصرے کے بعد غزہ میں خاموشی ضرور ہے،
مگر سوال باقی ہیں — کیا یہ امن ہے یا صرف وقفہ؟
ٹرمپ نے "امن 2025” (Peace 2025) کے نام سے اپنے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب “نیا مشرقِ وسطیٰ” جنم لے رہا ہے۔
لیکن فلسطینی ریاست کا قیام، اسرائیلی انخلا، اور شہیدوں کے انصاف جیسے بنیادی مسائل بدستور حل طلب ہیں۔
جنگ ختم یا صرف وقفہ؟
یروشلم میں اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ “انہوں نے امن کے لیے ہمت دکھائی۔”
مگر نیتن یاہو نے اگلے ہی دن اعلان کیا کہ فوجی کارروائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
اسرائیل کی انتہاپسند جماعتیں اس جنگ بندی کو “عارضی وقفہ” قرار دے رہی ہیں،
جبکہ غزہ کے عام شہری کہہ رہے ہیں:
"ٹرمپ کہتا ہے امن آ گیا، مگر ہمارے گھروں پر ملبہ ہے۔ یہ کون سا امن ہے؟”
امن کی قیمت
ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق غزہ میں ایک عبوری دور کے بعد ایک غیر عسکری فلسطینی ریاست قائم کی جائے گی، جسے ایک ٹیکنوکریٹ کونسل چلائے گی —
جس کی منظوری اسرائیل اور عالمی طاقتوں کے ذریعے ہوگی۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ “یہ صرف غزہ کی بحالی نہیں بلکہ پورے خطے کی تبدیلی کا عمل ہے۔”
مگر ناقدین کے مطابق فلسطینیوں کو اپنے ہی مستقبل پر اختیار نہیں دیا جا رہا۔
سعودی عرب اور قطر سمیت کئی عرب ممالک نے واضح کیا ہے کہ
جب تک آزاد فلسطینی ریاست کی ضمانت نہیں دی جاتی، وہ کسی مالی امداد کے لیے تیار نہیں۔
ٹرمپ کی تعریفیں اور تلخ حقیقت
یروشلم میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بدعنوانی کیس میں “صدر سے معافی” دینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا:
"سگار اور شیمپین؟ آخر فرق ہی کیا پڑتا ہے!”
ان کے یہ الفاظ ہال میں قہقے لائے، مگر بیرونی دنیا میں سوال اٹھ گئے۔
اندرونِ خانہ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف “مرحلہ دو” پر کام کر رہے ہیں —
جس میں فیصلہ ہوگا کہ غزہ واقعی آزاد ہوگا یا ایک نئے نظام کے ماتحت۔
فی الحال ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔
مگر غزہ کے شہری اب بھی ملبے سے اپنی زندگی تلاش کر رہے ہیں۔
"ہمارا امن تب ہوگا جب ہمارا گھر ہوگا،”
ایک فلسطینی نے کہا، جو اپنے اجڑے محلے کے سامنے کھڑا تھا۔
ٹرمپ کے لیے یہ "Peace 2025” ہے۔
فلسطینیوں کے لیے یہ اب بھی "Peace Delayed” — امن مؤخر۔
