کراچی کے علاقے منگھوپیر میں کمسن بچی کے بہیمانہ قتل کے خلاف لواحقین کا احتجاج آٹھویں روز بھی جاری ہے۔ تھانے کے باہر بیٹھے سوگوار خاندان نے مطالبات کی منظوری تک اٹھنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ پولیس تاحال کسی ایک مشتبہ شخص کو بھی حراست میں لینے میں ناکام رہی ہے۔
متاثرہ خاندان اور اہل علاقہ نے منگھوپیر کے مرکزی راستوں پر دھرنا دے رکھا ہے، جس سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ پولیس کی تفتیش میں سنجیدگی کا فقدان ہے اور مبینہ طور پر بااثر افراد کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مقتولہ کے والد نے احتجاجی کیمپ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم انصاف کے سوا کچھ نہیں مانگتے، لیکن پولیس صرف تسلیاں دے رہی ہے۔ جب تک قاتل سلاخوں کے پیچھے نہیں ہوں گے، ہم یہاں سے نہیں ہلیں گے۔” ان کی آواز میں دکھ اور غصہ دونوں نمایاں تھے، جبکہ قریب کھڑے اہلکار صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اس واقعے نے منگھوپیر میں پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں سی سی ٹی وی کیمروں کا نہ ہونا اور پولیس کی سست روی نے مجرموں کو محفوظ راستہ فراہم کیا۔
ایس ایس پی ویسٹ نے اپنے حالیہ بیان میں "فارنزک رپورٹ” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ خصوصی ٹیمیں شواہد اکٹھے کر رہی ہیں، تاہم انہوں نے کسی ممکنہ گرفتاری کے لیے کوئی وقت نہیں دیا۔ ان کا موقف ہے کہ جلد بازی میں غلط فرد کو پکڑنا کیس کو کمزور کر سکتا ہے۔
لواحقین کے لیے یہ تکنیکی وضاحتیں بے معنی ہیں۔ وہ گزشتہ ایک ہفتے سے اسی تھانے کے باہر بیٹھے ہیں جس پر انہیں عدم اعتماد ہے۔ احتجاج کرنے والوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر کل صبح تک پیش رفت نہ ہوئی تو منگھوپیر کی مارکیٹیں مکمل طور پر بند کر دی جائیں گی۔
فیصلہ کن گھڑی قریب ہے، اور حکام کی خاموشی اس کیس کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
